افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 47 اہلکار ہلاک

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مختلف مزاحمتی گروہوں کی مسلح کارروائیوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں اور حملوں میں طالبان کے کم از کم 47 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) کے مطابق 26 ستمبر کو نورستان کے ضلع کامدیش اور کنڑ کے ضلع ناری میں طالبان رجیم کی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ فرنٹ نے کہا کہ اس کی جوابی کارروائی کے دوران طالبان کے 37 اہلکار ہلاک جبکہ 24 زخمی ہوئے۔
مزاحمتی گروپ کے مطابق لڑائی کے دوران متعدد طالبان چیک پوسٹیں خالی کرائی گئیں اور بڑی تعداد میں ہلکے اور بھاری ہتھیار بھی قبضے میں لیے گئے۔ تاہم ان دعوؤں اور جانی نقصان کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
اس کے علاوہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں 28 ستمبر کو طالبان اہلکاروں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ افغانستان فریڈم فرنٹ نے کہا کہ حملے میں 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔
بغلان میں نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے بھی 28 ستمبر کو طالبان کی گشت کرنے والی فورس پر حملے کا دعویٰ کیا، جس میں 2 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور اسلحہ قبضے میں لینے کی اطلاع دی گئی۔
یوں مختلف مزاحمتی گروہوں کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں طالبان رجیم کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ نورستان اور کنڑ کی جھڑپیں اس سلسلے میں نمایاں کارروائیوں میں شامل ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











