کیا ایران امریکی معاشی جنگ میں شامل ہونے والے ممالک پر جوابی کارروائی کرے گا؟

امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نئی شدید ترین معاشی پابندیوں کے اعلانات کے بعد تہران نے امریکی معاشی جنگ کا حصہ بننے والے کسی بھی ملک پر جوابی حملہ کرنے کی کھلی دھمکی دے دی۔
مشرقی وسطیٰ میں مہینوں سے جاری جنگ اور سفارتی کوششوں کے تعطل کے بعد ایران نے امریکا کی جانب سے مسلط کردہ معاشی جنگ میں ساتھ دینے والے تمام ممالک کو نتائج بھگتنے کا سخت انتباہ جاری کر دیا۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے تہران میں سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک، بشمول ہمسايا ممالک، امریکا کی معاشی پابندیوں کی مہم میں شریک ہوا تو اسے ایران کا دشمن تصور کیا جائے گا۔
محسن رضائی نے خلیجی ممالک کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی جنگ کا حصہ بنے تو خلیج کے خطے سے متبادل راستوں کے ذریعے بھی تیل کا ایک قطرہ باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی معاشی شریانیں کاٹنے کیلئے تاریخی مالیاتی حملے کی تیاری کر رہے ہیں، امریکی وزیر خزانہ
ایرانی حکام کے مطابق ان کی حکمت عملی 3 مرحلوں پر مشتمل ہے؛ پہلے مرحلے میں متعلقہ ممالک سے سفارتی بات چیت کے ذریعے امریکا سے دور رہنے کی اپیل کی جائے گی، تاہم بات نہ ماننے کی صورت میں اس ملک کے معاشی و عسکری مفادات پر براہ راست اور ہولناک جوابی حملے کیے جائیں گے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران کی اس دھمکی کا مقصد ممکنہ حملوں سے قبل ہی زبردست دفاعی دباؤ قائم کرنا ہے۔
ایران کی نئی حکمت عملی میں خطرات پیدا ہونے سے پہلے پیشگی اقدام کرنا اور دشمن کو تصور سے زیادہ نقصان پہنچانا شامل ہے۔
خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز کے علاوہ متبادل راستے جیسا کہ بحرِ احمر کا باب المندب بند ہوتا ہے تو عالمی سطح پر تیل اور توانائی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












