سی آئی اے اور موساد ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا سراغ لگانے میں ناکام

امریکی ادارے سی آئی اے اور اسرائیلی ادارے موساد نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایران کے اعلیٰ ترین رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کا سراغ لگانے میں ناکام رہے ہیں۔
عالمی سطح پر جدید ترین سمجھی جانے والی امریکی اور اسرائیلی استخباراتی ایجنسیاں سی آئی اے اور موساد، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تلاش میں ناکامی کا سامنا کر رہی ہیں۔ اپنے والد کی شہادت کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای نے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مکمل طور پر چکما دے رکھا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 150 دنوں سے کسی بھی فون یا لیپ ٹاپ کا استعمال نہیں کیا۔ مغربی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ وہ کسی انتہائی محفوظ اور گہرے خفیہ مرکز میں موجود ہیں، جہاں سے وہ الیکٹرانک ذرائع کے بجائے تحریری کاغذات اور پیغامات لانے لے جانے والے درجنوں قاصدوں کے ذریعے اپنے احکامات منتقل کر رہے ہیں، تاکہ امریکی جاسوس سیٹلائٹ ان کی نشاندہی نہ کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کا اہم پیغام
اس وقت سی آئی اے اور موساد الیکٹرانک جاسوسی کے بجائے زمینی ایجنٹوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ موساد نے ایران کے اندر اپنے جن ایجنٹوں کے نیٹ ورک پر امیدیں لگا رکھی تھیں، وہ بھی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے عام آبادی اور رہائشی علاقوں پر کی جانے والی بمباری کے بعد بددل ہو چکے ہیں اور کوئی معلومات دینے میں ناکام ہیں۔
موساد کے سابق ڈویژن چیف رامی اگرا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو تلاش کرنا ویسا ہی مشکل کام ہے، جیسا غصے سے تباہ کیے گئے علاقوں میں قیدیوں کو تلاش کرنا تھا، جہاں تمام تر نگرانی کے باوجود کامیابی نہ مل سکی۔
اس سے قبل امریکہ نے ایران کے سابق رہنما علی خامنہ ای کو تہران میں ان کے دفتر پر حملہ کر کے اس وقت شہید کیا تھا، جب وہ عسکری حکام کے ساتھ اجلاس کر رہے تھے، جو کہ کسی خفیہ جاسوسی کی کامیابی کے بجائے کھلی عمارت پر حملہ تھا۔
موجودہ صورتحال سے واضح ہو رہا ہے کہ ایرانی دفاعی نظام، آبنائے ہرمز کی بندش اور میزائل حملوں کے سامنے سی آئی اے اور موساد کی روایتی جاسوسی پالیسیاں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










