ٹرمپ کا جنگی جنون بے قابو؛ امریکا کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ روانہ

واشنگٹن: امریکی بحریہ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ روانہ کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ یہ جہاز خطے میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے گا، جو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران آٹھ ماہ سے زائد عرصے سے خطے میں تعینات ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی تعیناتی اور بحری جہازوں کی تبدیلی کا منصوبہ موجودہ صورتحال اور ابراہم لنکن کے عملے کو درپیش مشکلات سامنے آنے سے پہلے ہی تیار کیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ تبدیلی امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں اور ان کے عملے پر طویل تعیناتی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو نمایاں کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن تقریباً 200 روز سے کسی بندرگاہ پر نہیں رکا۔ عام حالات میں طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے تقریباً 30 سے 45 دن کے وقفے کے بعد بندرگاہ پر قیام اور عملے کو آرام کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، تاہم ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث لنکن کی تعیناتی غیر معمولی طور پر طویل ہوگئی ہے۔
یو ایس ایس جارج واشنگٹن کہاں سے روانہ ہوا؟
امریکی بحریہ کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن اس سے قبل مغربی بحرالکاہل میں سرگرم تھا اور حال ہی میں ویتنام کا دورہ بھی کرچکا ہے۔ بعد ازاں یہ جہاز مغرب کی جانب روانہ ہوا اور آبنائے ملاکا سے گزر کر بحر ہند کے راستے مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
جارج واشنگٹن کی خطے میں آمد سے امریکی بحریہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں کی موجودگی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس کے نتیجے میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کو طویل تعیناتی کے بعد واپسی اور عملے کو آرام و بحالی کا موقع مل سکتا ہے۔
طیارہ بردار بحری جہاز امریکی فوج کے لیے کیوں اہم ہیں؟
طیارہ بردار بحری جہاز امریکی بحریہ کی اہم ترین جنگی صلاحیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان پر بڑی تعداد میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز اور دیگر معاون نظام موجود ہوتے ہیں، جس کے باعث یہ جہاز سمندر میں موبائل فوجی اور فضائی اڈے کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔
یہ بحری جہاز طویل فاصلے تک فضائی آپریشنز، نگرانی اور فوجی کارروائیوں میں معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے کسی حساس خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کو واشنگٹن کی فوجی موجودگی کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
ایران امریکا کشیدگی میں نئی تعیناتی کی اہمیت
یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ کی جانب پیش قدمی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی برقرار ہے۔ خطے میں پہلے ہی امریکی بحری اور فضائی اثاثوں کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستے بھی عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
ایسے میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز کی دوسرے جہاز سے تبدیلی امریکی فوجی موجودگی میں تسلسل برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ پر طویل جنگی تعیناتی کے اثرات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











