امریکی دھمکیوں کے باوجود چین ایرانی تیل کی خریداری بند نہیں کرے گا، ماہرین

انرجی سیکٹر کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تمام تر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود چین کا ایرانی خام تیل کی خریداری کو مکمل بند یا صفر کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے والے ممالک پر شدید معاشی نتائج اور سخت پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود، چین کی جانب سے ایرانی خام تیل کی خرید و فروخت کو مکمل طور پر صفر کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے سنٹر آن گلوبل انرجی پالیسی کی سینئر محقق ایریکا ڈاؤنز نے ایک تجزیاتی گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ سال چین ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر اضافی پابندیاں لگانا چاہتی ہے تو اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ چینی اداروں پر پابندیاں لگانے کے فائدے اور اس کے بدلے میں ہونے والے معاشی نقصان کا جائزہ کس طرح لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عراقی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکروں کے درمیان ’’الخلیج العربی‘‘ اور ’’الخلیج الفارسی‘‘ کا تنازع
تجزیہ کار ایریکا ڈاؤنز کے مطابق چین کے پاس امریکہ کو معاشی جواب دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، جس میں نایاب معدنیات اور نایاب عناصر کی امریکہ کو برآمدات پر پابندی لگانا شامل ہے۔ اگرچہ سرکاری کسٹمز کے اعداد و شمار میں ایسا دکھایا جاتا ہے کہ چین کی ایرانی تیل کی درآمدات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اس کی تصدیق کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ تیل اکثر دوسرے ممالک جیسے کہ ملائیشیا اور انڈونیشیا کے راستے اور ان کے نام سے چین بھیجا جاتا ہے۔
تحقیقاتی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ مئی میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بھی چین نے ایرانی خام تیل کی خرید جاری رکھی، اور اس میں معمولی سستی صرف اس وقت آئی جب اپریل کے وسط میں امریکہ نے ایران پر بحری ناکہ بندی قائم کی۔
اس کے باوجود اب بھی آبنائے ہرمز کے باہر کھلے سمندر میں ایرانی تیل کے جہاز موجود ہیں، جو چین کو فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی امریکہ نئی پابندیاں عائد کرتا ہے، ایرانی تیل کو چین تک پہنچانے والے ادارے، آئل ٹینکرز اور کمپنیاں ان پابندیوں سے بچنے کے لیے نیا متبادل راستہ تلاش کر لیتی ہیں، اسی لیے چینی خرید کو روکنا امریکہ کے لیے انتہائی مشکل معاشی چیلنج ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










