ہفتہ، 29-اگست،2026
ہفتہ 1448/03/16هـ (29-08-2026م)

امریکا کے معاشی دباؤ کا توڑ؟ ایرانی سپریم لیڈر نے معیشت کیلئے نئی سمت مقرر کردی

29 اگست, 2026 08:38

ایران کے رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے صدر مسعود پزیشکیان کی حکومت کی جانب سے امریکی و اسرائیلی جارحیت اور پابندیوں کے دوران عوامی ضروریات پوری کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ملکی پیداوار میں اضافے اور اہم لین دین میں امریکی ڈالر کا کردار بتدریج ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بات حکومت ہفتہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی۔ ایران میں حکومت ہفتہ ہر سال سابق صدر محمد علی رجائی اور وزیراعظم محمد جواد باہنر کی یاد میں منایا جاتا ہے، جو 30 اگست 1981 کو وزیراعظم کے دفتر میں ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

رہبر انقلاب نے رجائی، سابق صدر ابراہیم رئیسی، باہنر اور مختلف حکومتوں میں خدمات انجام دینے والے جاں بحق اہلکاروں، وزرا اور حکام کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے بالخصوص صدر مسعود پزیشکیان اور سرکاری اداروں کے فعال افسران و ملازمین کی خدمات کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی دشمن کی پابندیوں، رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود حکومت نے حالیہ جنگ اور اس کے بعد عوام کو ضروری اشیا اور مختلف خدمات کی فراہمی، اہم مقامات کی بحالی اور توانائی کے انتظام کے لیے اقدامات کیے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی و اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی عوام نے اپنی صلاحیت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، اس لیے عوام کو حکومتی اداروں کی خدمات کا عملی طور پر احساس ہونا چاہیے۔

رہبر انقلاب نے معاشی اور عوامی مشکلات کے حل کے لیے مہنگائی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ملکی پیداوار بڑھانے، اہم معاشی معاملات میں ڈالر پر انحصار بتدریج کم کرنے اور مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کو مرکزی حیثیت دینے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کی بنیادی کنجی زیادہ سے زیادہ مقامی پیداوار پر انحصار ہے۔

ان کے مطابق جہاں ملکی پیداوار ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی نہ ہو، وہاں درآمدات کو مناسب اور دانشمندانہ انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے نوجوان ماہرین کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی ٹیکنالوجیز اور اختراعات سے فائدہ اٹھانے کو بھی اہم قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض مواقع پر روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر نئی صلاحیتوں کو بروقت استعمال کرنا ملک کی ترقی میں نمایاں پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے امریکا کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دشمن یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ترقی کا راستہ اس کی پیروی اور اس کے مطالبات تسلیم کرنے سے گزرتا ہے، تاہم ماضی میں ایران اور اس کے وسائل کے حوالے سے امریکا کے اقدامات اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔

قومی اتحاد برقرار رکھنے پر زور

آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں قومی اتحاد اور سماجی یکجہتی کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایسے بیانات اور اقدامات سے گریز کیا جائے جو عوامی حوصلے کو کمزور یا معاشرے میں تقسیم پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ یا مذاکرات، اتفاق رائے یا انتہا پسندی اور سمجھوتے یا جنگی رویے جیسی مصنوعی تقسیمیں ماضی میں ایرانی عوام کو نقصان پہنچا چکی ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

رہبر انقلاب نے واضح کیا کہ سماجی اتحاد کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔

انہوں نے حکومت کی تمام پالیسیوں میں ثقافت، تعلیم اور تربیت کو بنیادی ترجیح دینے پر بھی زور دیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ، جامعات اور دینی مدارس کے اساتذہ، نرسوں اور ڈاکٹروں سمیت گھریلو خواتین کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی تربیت اور پرورش کے ذریعے گھریلو خواتین ملک کے ثقافتی مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے امید ظاہر کی کہ ان ترجیحات پر مؤثر عملدرآمد سے ایران کو مزید مضبوط بنانے اور ملکی ترقی کی رفتار تیز کرنے میں مدد ملے گی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔