مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحتمند ہیں، ان کے زخم بھی ٹھیک ہو چکے ہیں؛ ایرانی صدر مسعود پزشکیان

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای مکمل طور پر صحت مند ہیں اور حالیہ حملوں میں ان کے چہرے اور ٹانگوں پر آنے والے زخم بھی ٹھیک ہوچکے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو صحت کا کوئی خاص مسئلہ درپیش نہیں اور وہ طبی اعتبار سے مکمل صحت مند ہیں۔
ایرانی صدر نے بتایا کہ ان کی سپریم لیڈر سے دو مرتبہ ملاقات ہوچکی ہے، جن میں سے ایک ملاقات سات گھنٹے سے بھی زیادہ جاری رہی۔ ان کے مطابق اتنے طویل وقت تک ملاقات کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای کی جسمانی حالت معمول کے مطابق رہی۔
پزشکیان، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر بھی ہیں، نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے اور ٹانگوں پر آنے والے زخم اب ٹھیک ہوچکے ہیں اور انہیں کوئی جاری طبی مسئلہ درپیش نہیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی پیشکش
آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق سوال پر ایرانی صدر نے کہا کہ اگر امریکا ایران کی پیشکش قبول کرتا ہے تو تہران اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ مذاکرات کا عمل بھی بحال کیا جاسکتا ہے۔
مسعود پزشکیان کے مطابق امریکی جانب سے ایرانی پیشکش قبول کیے جانے کے ساتھ ہی مذاکرات شروع کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز اور مذاکرات سے متعلق اپنی تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچا چکا ہے۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان موجود بداعتمادی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست اعتماد بحال کرنا آسان نہیں۔ پزشکیان کے مطابق ایران پر پابندیاں، دھمکیاں اور فوجی حملے جاری رہنے کے باعث تہران کو یہ خدشہ ہے کہ کسی نئے معاہدے کے بعد واشنگٹن اپنے وعدوں پر عمل کرے گا یا نہیں۔
جوہری پروگرام پر ایران کا مؤقف
ایرانی صدر نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کررہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار تیار کرنا اسلامی تعلیمات کے مطابق حرام ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ اگر ایران میں کچھ افراد جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش بھی رکھتے ہوں تو مذہبی اعتبار سے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق جوہری معاملے پر بات چیت کے دوران معائنے اور نگرانی سے متعلق مخصوص معاہدہ بھی طے کیا جاسکتا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے بھی تیار ہے، تاہم اس حوالے سے طریقہ کار اور شرائط مذاکرات کے ذریعے طے کی جاسکتی ہیں۔
پزشکیان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دائرہ کار میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی مسئلہ اعتماد کی بحالی ہے اور کسی بھی نئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے طے شدہ وعدوں پر عمل کرنا ہوگا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












