ہفتہ، 26-ستمبر،2026
ہفتہ 1448/04/15هـ (26-09-2026م)

ٹرمپ نے ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ روکنے کی تجویز مسترد کردی

26 ستمبر, 2026 08:17

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور سات روز کے اندر خطے میں جاری جنگ روکنے کی تجویز مسترد کردی ہے، جبکہ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے کانگریشنل انتخابات کے بعد دوبارہ بمباری شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو اقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ایران نے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا کو اپنا امن منصوبہ پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق معاہدہ ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے سات روز کی مدت شروع ہوجائے گی اور خطے میں جاری لڑائی بھی روک دی جائے گی۔

عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے معاہدے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے سنجیدگی موجود ہے تو اس حوالے سے تمام معاملات تیار ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور ایران ثالثوں کے ذریعے ’مثبت اور تعمیری‘ بات چیت کررہے ہیں، تاہم ٹرمپ نجی طور پر اس حوالے سے شکوک رکھتے ہیں کہ ایران ان کے مطالبات پورے کرے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے عملے کو بتایا ہے کہ وہ دوبارہ بمباری کی مہم شروع کیے جانے کو ممکن سمجھتے ہیں۔ تاہم رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی سفارتی کوششوں نے سات ماہ سے جاری تنازع کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ اس جنگ کے باعث دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور تنازع میں خطے اور دنیا کی مختلف طاقتیں بھی شامل ہوئی ہیں۔

عراقچی کے مطابق اگر امریکا ایرانی تجویز قبول کرتا ہے تو فریقین باہمی اتفاق سے طے کیے گئے معاملات پر وسیع مذاکرات شروع کرسکتے ہیں۔ منصوبے کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی ہوگی۔

اس کے بدلے ایران نے امریکا سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کیا سفارتکاری دوبارہ شروع ہوسکتی ہے؟

ایران کی جانب سے سات روزہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنگ کے خاتمے کیلئے ہونے والی سابقہ سفارتی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اس کے بعد جنگ میں وقفے اور دوبارہ حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، ایران کی روایتی فوجی صلاحیت متاثر ہوئی اور پہلے ہی مشکلات کا شکار ایرانی معیشت کو مزید نقصان پہنچا۔

ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں کی گئیں اور تنازع خطے کے مختلف حصوں تک پھیل گیا۔ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکا کے اتحادیوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا، جبکہ یمن میں اس کے اتحادی حوثی ملیشیا نے سعودی مفادات کو ہدف بنایا۔

ایران سے وابستہ عراقی ملیشیاؤں پر ایک پائپ لائن حملے کا الزام بھی عائد کیا گیا، جس کے نتیجے میں سعودی تیل کی مارکیٹ میں دستیابی عارضی طور پر مزید کم ہوئی۔

دوسری جانب ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ لبنان میں اسرائیلی فورسز کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہے۔

یمن میں سعودی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو ایران سے منسلک حوثی جنگجوؤں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ حوثی میزائل سعودی عرب کے اندر بھی حملوں کیلئے استعمال ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کے بعد سعودی عرب کے اتحادیوں نے مملکت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق ترکیہ اور پاکستان کے دفاعی حکام نے جمعے کو ریاض میں ملاقات کی، جس میں سیکیورٹی صورتحال، انٹیلی جنس تعاون، فوجی رابطہ کاری اور افواج کے انضمام سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

یہ ملاقات سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ کی مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کے فریم ورک کے تحت ملاقات کے ایک روز بعد ہوئی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔