کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی مکمل ریاست کی بحالی کی قرارداد پیش

سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بھارت سے مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا، جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نئی دہلی سے مقبوضہ کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری بحال کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد پیش کردی۔
عمر عبداللہ نے اسمبلی میں مؤقف اختیار کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اس پر تاحال عمل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق حد بندی اور انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور اب ریاستی حیثیت کی بحالی اگلا مرحلہ ہونا چاہیے۔
نیشنل کانفرنس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں صرف ریاستی حیثیت کی بحالی ہی نہیں بلکہ ماضی میں اسمبلی سے منظور کی گئی قراردادوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ قرارداد میں 2000 کی خودمختاری سے متعلق قرارداد اور نومبر 2024 کی خصوصی حیثیت سے متعلق قرارداد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
نیشنل کانفرنس کا مؤقف ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو محض محدود انتظامی اختیارات کے ساتھ ریاستی درجہ دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ خطے کے تاریخی اور آئینی حقوق سے متعلق معاملات کو بھی سیاسی بحث کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے اسمبلی میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو مکمل ریاستی حیثیت واپس ملنی چاہیے اور ایسی کوئی محدود یا جزوی ریاستی حیثیت قابل قبول نہیں جس میں اہم اختیارات منتخب حکومت کے پاس نہ ہوں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے اس معاملے کو نئی دہلی کی جانب سے کیے گئے وعدے کی تکمیل سے جوڑا۔
قرارداد پیش ہوتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج شروع کردیا۔ بی جے پی ارکان نے خاص طور پر 2000 کی خودمختاری سے متعلق قرارداد کے حوالہ پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ اسمبلی میں خودمختاری کے معاملے پر بحث کی اجازت نہیں دیں گے۔
احتجاج کے دوران بی جے پی ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے، نعرے بازی کی اور قرارداد کی نقول پھاڑ دیں۔ ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر کو کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنا پڑی۔
دوسری جانب حکمران نیشنل کانفرنس کے ارکان نے قرارداد کی حمایت کی۔ نیشنل کانفرنس کے مطابق ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ صرف ایک جماعت کا مؤقف نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کی منتخب اسمبلی کے سامنے موجود ایک اہم سیاسی معاملہ ہے۔
کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کی گئی ہے، جس کے باعث اسمبلی میں اس معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان واضح سیاسی اختلاف سامنے آیا۔
مقبوضہ کشمیر کی موجودہ آئینی اور انتظامی حیثیت پر بحث اس وقت مزید نمایاں ہوگئی ہے جب عمر عبداللہ کی حکومت مسلسل مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کو انتظامی معاملات میں زیادہ مؤثر اختیار ملنا چاہیے۔
اسمبلی میں ہونے والی شدید ہنگامہ آرائی نے یہ بھی واضح کردیا کہ ریاستی حیثیت اور سابقہ آئینی اختیارات کا معاملہ مقبوضہ کشمیر کی سیاست میں بدستور انتہائی حساس موضوع ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بی جے پی ارکان کی جانب سے قرارداد کے خلاف احتجاج کے دوران ایوان میں نعرے بازی اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے اور اسے بھارتی حکومت تک پہنچانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب اس معاملے پر اسمبلی میں مزید بحث اور کارروائی آئندہ سیاسی منظرنامے کے لیے اہم ہوگی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











