ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے یا معاہدہ کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی دھمکی کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا اور امریکہ کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی کارروائی کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان میں واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر جاری مذاکرات صرف دوطرفہ ہیں اور ان میں کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حالات اب امریکہ کی جنگ سے پہلے والی حالت پر واپس نہیں جائیں گے، کیونکہ امریکی بحری ناکہ بندی اور پابندیوں نے وہاں مسائل پیدا کیے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان یہ گفتگو ایک ایسا میکانزم بنانے کے لیے ہے، جس سے ایران کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی ہم منصب سے رابطہ
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط کے ابتدائی 22 سے 23 دنوں کے دوران شمالی راستہ بحری آمدورفت کے لیے مکمل محفوظ اور کھلا تھا، لیکن 30 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی امریکہ نے ایران پر نیا حملہ کر دیا۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مکمل طور پر بلا بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور معاہدہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز فی الحال بند رہے گی اور وہاں سے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت صرف پاسداران انقلاب کی بحری فورس کی منظوری سے مخصوص راستوں کے ذریعے ہی دی جائے گی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









