صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ جوہری معاہدے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب کے ساتھ ایٹمی ٹیکنالوجی کی شراکت داری کا معاہدہ منظور کر لیا۔ اس اقدام سے سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کا اشتراک کرنے سے متعلق ایک اہم معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل ہونے کا امکان ہے، جو خطے میں ایٹمی پیش رفت کے حوالے سے ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے بیانات، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کی شدید مذمت
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ معاہدہ 30 سالہ مدت پر محیط ہو سکتا ہے، جس میں امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے اندر جوہری پروگرام کو فروغ دینے میں کام کریں گی۔
اس مشترکہ منصوبے کے بعد سعودی عرب میں یورینیم کی افزودگی کا ایک مرکز قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ امریکی توانائی کے وزیر کرس رائٹ اور سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے مابین دستخط شدہ ‘123 معاہدے’ کے تحت کانگریس میں پیش کیا جائے گا۔
تاہم میڈیا رپورٹس میں یہ تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے کہ اس معاہدے میں وہ سخت ترین حفاظتی ضمانتیں شامل نہیں ہیں، جو واشنگٹن ماضی میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لازمی قرار دیتا رہا ہے کہ جوہری مواد کا رخ ہتھیار بنانے کی طرف نہ موڑا جا سکے۔ فی الحال امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر اعلانیہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












