عراقی فورسز نے سعودی پائپ لائن حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون لانچر برآمد کرلیا

عراقی سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم تلاش کرکے قبضے میں لے لیا۔
عراقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس کارروائی کے دوران اس ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم کو ڈھونڈ کر قبضے میں لے لیا ہے، جسے سعودی عرب کی مشرق مغرب تیل پائپ لائن پر ہونے والے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی این اے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں عراقی سیکیورٹی میڈیا سیل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سعد مان نے بتایا کہ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ٹاسک فورس نے آلات کا سراغ لگا کر انہیں تحویل میں لے لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فارنزک اور تکنیکی ماہرین حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ عراقی وزیراعظم نے اس معاملے کی تحقیقات میں شمولیت کے لیے ایرانی درخواست کی منظوری دے دی ہے تاکہ نتائج کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : موجودہ صورتحال کے باعث ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، سابق امریکی مذاکرات
بغداد اس حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں سعودی حکام کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل سعد مان کا کہنا تھا کہ عراق اس اصول پر کاربند ہے کہ اپنی سرزمین کو نہ صرف اندرونی حملوں سے محفوظ رکھا جائے بلکہ کسی دوسرے ملک کے خلاف بھی عراقی سرزمین کو لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
واضح رہے کہ جمعرات کے روز عراق سے لانچ کیے جانے والے کئی ڈرونز نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں واقع ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنایا تھا، جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
عالمی تیل کی رسد کا چار سے پانچ فیصد حصہ فراہم کرنے والی اس پائپ لائن کو احتیاطی تدبیر کے طور پر عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
سعودی حکام نے اس حملے کا سراغ عراقی صوبے میسان کے سرحدی علاقے سے لگایا ہے اور عراق نے اس واقعے کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کئی سرحدی کمانڈرز کو برطرف کر دیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











