خلیجی ملکوں کی اربوں ڈالر کی پائپ لائنز بھی آبنائے ہرمز کا متبادل نہ بن سکیں

خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی لاگت سے پائپ لائنز تعمیر کیں، تاہم موجودہ بحران نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ متبادل راستے پانی سے گزرنے والے تیل کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی منتقل کر سکتے ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 20 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور متحدہ عرب امارات کی حبشان فجیرہ روٹ کی اضافی صلاحیت صرف ساڑھے تین ملین سے ساڑھے پانچ ملین بیرل یومیہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : باب المندب : ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار، ایران نے سب سے کمزور رگ پر ہاتھ رکھ دیا
سعودی عرب کی پیٹرولائن ابقیق سے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ينبع تک تیل لے جاتی ہے لیکن اس کے ویسٹرن ٹرمینلز محدود ہیں اور یہ راستہ بحیرہ احمر کی طرف جاتا ہے، جو باب المندب میں حوثی ملیشیا کی کارروائیوں کی زد میں ہے۔
متحدہ عرب امارات کی فجیرہ پائپ لائن آبنائے ہرمز سے تو بچاتی ہے لیکن اس کی گنجائش صرف ایک اعشاریہ 8 ملین بیرل یومیہ ہے۔ ابوظہبی اس کی توسیع کر رہا ہے، جو 2027 سے پہلے مکمل نہیں ہوگی اور یہ بھی غیر محفوظ بندرگاہوں پر منحصر ہے۔
عراق کی ترکیہ جانے والی پائپ لائن سیاسی تنازعات اور تکنیکی مسائل کی وجہ سے اپنی مکمل صلاحیت پر کام نہیں کر رہی۔ اس کے علاوہ پائپ لائنز جامد انفراسٹرکچر ہیں، جو میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں آسانی سے آ سکتی ہیں۔
قطر کی ایل این جی کے لیے تو کوئی زمینی راستہ موجود ہی نہیں اور اسے ہر صورت آبنائے ہرمز کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ نتیجے کے طور پر ایران کے جغرافیائی کنٹرول کو پائپ لائنز سے ختم کرنا ممکن نہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










