اتوار، 26-جولائی،2026
اتوار 1448/02/12هـ (26-07-2026م)

باب المندب : ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار، ایران نے سب سے کمزور رگ پر ہاتھ رکھ دیا

26 جولائی, 2026 11:24

ایران کے سپریم لیڈر کے ملٹری ایڈوائزر نے آبنائے ہرمز کو درجنوں ایٹم بموں سے زیادہ اہم قرار دیا ہے، جبکہ اب امریکیوں کو تشویش ہے کہ ایران نے باب المندب کا دوسرا اہم تزویراتی آپشن استعمال کرنا شروع کر دیا۔

آبنائے ہرمز سے تقریباً 2 ہزار کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ پر حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے۔ امریکی اداروں کے تجزیہ کاروں کے مطابق حوثی بغیر بحری بیڑے کے بھی سمندری ناکہ بندی کر کے عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سابق امریکی سفیر مائیکل ریٹنی کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں کو روکنے کے لیے میزائل يا ڈرون بھیجنا بھی ضروری نہیں، اگر شپنگ کمپنیاں خود خوف سے اس راستے سے نہ گزریں تو یہ خود بخود ایک مؤثر ناکہ بندی بن جاتی ہے۔

اس ہفتے اعلان کردہ ناکہ بندی کا بنیادی ہدف سعودی عرب کی تیل کی کھیپ ہے، جسے ریاض کی جانب سے یمنی بندرگاہوں کے محاصرے اور صنعاء ایئرپورٹ پر حملوں کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے انسانی بحران میں شدید اضافہ ہوگیا، اقوام متحدہ

حوثی ملیشیا پہلے ہی سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز اینسیلیا اور لیلیٰ کو نشانہ بنا چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور بحیرہ احمر میں رکاوٹوں کے باعث سعودی عرب کے لیے اپنے پیدا کردہ 11 سے 12 فیصد عالمی بحری تیل کو برآمد کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر شدید معاشی دباؤ آن پڑا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنانے پر شدید فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اسے فوجی طاقت سے حل کرنا ممکن نہیں۔

حوثی فورسز نے 2024 سے 2025 کے دوران مختلف امریکی انتظامیہ اور اسرائیل کی شدید بمباری کا مقابلہ کیا ہے اور وہ اسرائیل سے جڑے تجارتی جہازوں کو روکنے سمیت 2 ہزار کلومیٹر دور تک میزائل داغتے رہے ہیں۔

اس وقت حوثی ملیشیا نے ریاض اور وائٹ ہاؤس کو 10 سال سے جاری محاصرہ ختم کرنے اور یمن سے نکلنے کا راستہ دیا ہے، لیکن اگر امریکی فوجی اقدام بڑھتا ہے تو صورتحال مزید سنجیدہ شکل اختیار کر سکتی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔