امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگستھ

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکتی ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے بحری جہازوں کی باری باری تعیناتی کے ذریعے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے یہ گفتگو پاناما میں کی، جہاں اس سے قبل انہوں نے امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس گرڈلی کے عملے سے خطاب کیا تھا۔ یہ جنگی جہاز ماضی میں مشرق وسطیٰ میں بھی تعینات رہ چکا ہے۔
پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکی بحریہ ضرورت کے مطابق اپنے جنگی بحری جہازوں کو خطے میں بھیج سکتی ہے اور تعیناتی مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس بلا کر دوسرے جہازوں کو ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔
ان کے بقول اس طریقہ کار کے ذریعے امریکی فوج ایران کے خلاف بحری کارروائیوں اور ناکہ بندی کو طویل مدت تک جاری رکھ سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز اور خطے میں بحری نقل و حرکت کے معاملے پر شدید کشیدگی برقرار ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آبنائے ہرمز پر امریکا کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور ان کے خیال میں یہ کنٹرول برقرار رہے گا۔
امریکی صدر نے اپنی بحری ناکہ بندی کو ’’فولادی دیوار‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔
پیٹ ہیگستھ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جہاز پر موجود ہزاروں امریکی فوجی اہلکار طویل عرصے سے سمندر میں تعینات ہیں اور انہیں خوراک، ذہنی صحت اور شدید تھکن سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہے۔
امریکی قانون سازوں کی جانب سے بھی ان حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور پینٹاگون سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
یوں ایک جانب امریکی دفاعی قیادت ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی صلاحیت کا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب طویل تعیناتی کے باعث امریکی بحری اہلکاروں پر پڑنے والے دباؤ کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












