جنگ کیلئے تیار ہیں، لیکن سفارت کاری سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن ساتھ ہی سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے این بی سی نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کے مقابلے میں پوری طرح ڈٹا ہوا ہے، یہاں تک کہ اگر معاملہ قیامت خیز جنگ تک بھی پہنچ جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود تہران نے سفارت کاری کے راستے کو بند نہیں کیا اور اب یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ کیا راستہ منتخب کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اور صدر نیویارک جنگ کو بڑھانے نہیں بلکہ امن کے لیئے آئے تھے۔ ایران کسی بھی جارحیت کے مقابلے کے لیئے ثابت قدم ہے، خواہ نوبت قیامت خیز جنگ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے، مگر ساتھ ہی ہم سفارت کاری کے لیئے بھی تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیر آب ڈرون قبضے میں لے لیا
انہوں نے یہ بیان وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ پر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر امریکی وسط مدت کے انتخابات کے بعد ایران پر بمباری دوبارہ شروع کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ ایرانی وفد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کی ہے، لیکن صدر ٹرمپ کے پیغامات تضاد کا شکار ہیں۔
ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس کہ انہوں نے ایران کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے، ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کوئی باضابطہ تردید ابھی تک تہران تک نہیں پہنچائی گئی۔
انہوں نے دہرایا کہ ایران اپنے منجمد فنڈز کی بازیابی اور تیل فروخت کرنے کی اجازت کی شرط پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تیار ہے اور یہ مطالبات نئے نہیں ہیں بلکہ ماضی کے سمجھوتوں کا حصہ ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











