عراق کا آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد متبادل برآمدی راستے اختیار کرنے کا فیصلہ

عراق نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خام تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستوں اور نیا میکانزم منظور کر لیا۔
عراق کی حکومت نے خام تیل کی برآمدات کو جاری رکھنے کے لیے ایک نیا میکانزم منظور کر لیا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں کے ذریعے مختلف متبادل راستوں سے تیل برآمد کیا جائے گا۔
عراقی کابینہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس نئے طریقہ کار کے تحت طے پانے والے معاہدے یکم ستمبر سے شروع ہو کر 3 ماہ کی مدت کے لیے نافذ العمل رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : بحری ناکہ بندی اور پابندیاں ختم ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولیں گے، باقر قالیباف
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خطے میں توانائی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے اور سمندری راستوں کی سلامتی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے اور خلیج کے سمندری راستوں پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے بغداد حکومت اپنے جنوبی برآمدی مراکز کے علاوہ ترکیہ اور شام کے پائپ لائن راستوں سمیت دیگر متبادل ذرائع کو فعال بنانے پر کام کر رہی ہے۔
عراق تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا دوسرا بڑا پیداواری ملک ہے اور اپنی سرکاری آمدنی کے لیے توانائی کی برآمدات پر شدید انحصار کرتا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











