امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر امریکا درآمد کیے جانے والے بغیر پائلٹ ڈرونز اور ان کے پرزہ جات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نئے ٹیرف کا مقصد ڈرونز اور ان سے متعلق پرزہ جات کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور غیر ملکی سپلائی چینز پر امریکی انحصار کم کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق بعض بغیر پائلٹ ڈرونز اور ان کے نظام پر 100 فیصد تک ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ اس میں وہ ڈرونز شامل ہیں جن کا وزن 25 کلوگرام سے زیادہ ہے اور ان میں تھرمل امیجرز، ڈاکنگ اسٹیشنز اور دیگر جدید صلاحیتیں موجود ہیں۔
حکام کے مطابق ایسے ڈرونز اور متعلقہ مصنوعات کو قومی سلامتی کے تناظر میں حساس قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث ان کی درآمد پر اضافی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق چھوٹے ڈرونز پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، جبکہ نئے ٹیرف کا زیادہ تر حصہ 3 ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ درآمدی ڈرونز پر اضافی محصولات عائد کرنے سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا اور امریکی کمپنیوں کو ڈرونز کی تیاری اور متعلقہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی اب صرف تجارتی استعمال تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات میں بھی اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
اسی وجہ سے واشنگٹن غیر ملکی تیار کنندگان اور سپلائی چینز پر انحصار کم کرکے مقامی سطح پر ڈرونز اور ان کے اہم پرزہ جات کی پیداوار بڑھانا چاہتا ہے۔
امریکا کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈرونز کے معاملے پر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے چین نے امریکا کو ڈرونز کی برآمدات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چین نے امریکی تجارتی پابندیوں کے جواب میں 6 کمپنیوں کو بلیک لسٹ بھی کیا تھا۔
یوں امریکا کی جانب سے درآمدی ڈرونز پر بھاری ٹیرف کا فیصلہ نہ صرف مقامی ڈرون صنعت کو تحفظ دینے کی کوشش ہے بلکہ اس کے اثرات امریکا اور چین کے درمیان پہلے سے جاری تجارتی اور ٹیکنالوجی کشیدگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔