‘ایران نے امریکا کو ایسی پوزیشن میں پہنچا دیا جس کا واشنگٹن نے تصور بھی نہ کیا تھا’

سابق امریکی مذاکرات کار ایرن ڈیوڈ ملر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کو آبنائے ہرمز پر ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور کنٹرول کو قبول کرنا پڑا تو واشنگٹن کو ایک بڑی اسٹریٹجک شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرن ڈیوڈ ملر نے کہا کہ ممکنہ انتظامات کے نتیجے میں امریکا کو ایران کو یہ اختیار دینا پڑ سکتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آبنائے ہرمز سے کون اور کیا گزر سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایسا نتیجہ نہ صرف امریکا بلکہ خلیج فارس میں اس کے عرب اتحادیوں کے لیے بھی بڑا دھچکا ہوگا۔
ملر نے یہ بات ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے مبینہ مذاکرات کے تناظر میں کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی حتمی معاہدے کے بارے میں فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم اگر کوئی سمجھوتا ایران کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرتا ہے تو یہ امریکا کے لیے ایک گہری اسٹریٹجک ناکامی ہوگی۔
سابق امریکی مذاکرات کار کے مطابق خلیجی ممالک کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایسے کسی معاہدے کو قبول یا اس کی حمایت کرسکتے ہیں یا نہیں، جبکہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد امریکی انتظامیہ کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک مجموعی طور پر صدر ٹرمپ پر محدود اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس خطے میں موجود وسیع کاروباری مفادات کے باعث خاصا اثر و رسوخ ہے۔
ملر نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ، صدر کے خاندان کے افراد، ان کے داماد جیرڈ کشنر، اسٹیو وٹکوف اور دیگر شخصیات پہلے ہی خلیجی خطے سے منسلک منصوبوں میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا چکی ہیں۔
ان کے مطابق جیرڈ کشنر کا دو ارب ڈالر کا سرمایہ کاری فنڈ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی مالی معاونت سے قائم ہوا۔
سابق امریکی مذاکرات کار نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو تہران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آسکتا ہے، جس کے عالمی توانائی کی منڈیوں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
ایرن ڈیوڈ ملر کے مطابق خلیج فارس میں تیل کی تنصیبات کو ایران کی جانب سے پہنچائے جانے والے ممکنہ نقصان کی مکمل شدت ابھی سامنے نہیں آئی، تاہم کسی بڑے تصادم کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












