آبنائے ہرمز پر صرف عمان سے بات چیت جاری ہے، ایران کی امریکہ سے مذاکرات کی تردید

ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات صرف عمان کے ساتھ ہو رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی گفتگو نہیں کی جا رہی۔ تہران نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کو خطے میں بدامنی کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک اہم ذریعے نے فارسر نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے معاملات پر صرف اپنے ہمسایہ ملک عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ کوئی گفتگو نہیں کی جا رہی۔
ایرانی ذرائع کے مطابق آرٹیکل 5 سے امریکی انحراف کے بعد بنایا گیا جنوبی راستہ مکمل طور پر غیر محفوظ اور غیر قانونی ہے۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکی عسکری حملے اور دھمکیاں آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے مؤقف کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کے ساتھ معاہدہ بے مقصد ہے، ایران کی امریکی پالیسی مجتبیٰ خامنہ ای کے نظریات کے تابع ہوگی، مجلس خبرگان رہبری
ذرائع کے مطابق اگر امریکہ اور اس کے اتحادی عمان کے ساتھ جاری گفتگو میں رکاوٹیں نہ ڈالتے تو یہ مذاکرات بہت پہلے کامیابی سے ہمکنار ہو چکے ہوتے۔ پریس ٹی وی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، بشرطیکہ غیر ملکی مداخلت کا سلسلہ بند ہو۔
عالمی ذرائع کے مطابق ایران اور عمان ایک ایسے پلان پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جبکہ آنے جانے والے تمام بحری جہازوں کی نگرانی ایران کے پاس ہو گی۔
المیادین سے بات کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سیکیورٹی ذریعے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مسلسل جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلا یا بند رہنا خطے کی مجموعی صورتِ حال پر منحصر ہے اور امریکی پابندیاں اور جارحیت ختم ہونے تک اسے کھولا نہیں جائے گا۔
ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی خطے میں موجودگی ہی تمام مسائل کی جڑ ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں نے پورے خطے کو ایک بڑی معاشی اور امن و امان کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











