پینٹاگون کو ہتھیاروں کی شدید کمی کا سامنا، ایران جنگ کے اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، امریکی وزیرِ دفاع

امریکی وزیرِ دفاع نے سینیٹ میں اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کے باعث 1.5 کھرب ڈالر کے نئے دفاعی بجٹ کا مطالبہ بھی کردیا گیا۔
امریکی وزیر دفاع پیت ہیگسیٹھ نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اعتراف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ پر اب تک کی باضابطہ لاگت 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کے ساتھ سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر دفاع نے 1.5 کھرب ڈالر کے مجموعی دفاعی بجٹ کی درخواست کی، جس میں ایران کے خلاف جنگ کے لیے 70 ارب ڈالر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران بے صبری سے مذاکرات چاہتا ہے لیکن اب امریکا کی دلچسپی نہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
تاہم، معاشی تجزیہ کاروں اور موڈیز کا کہنا ہے کہ امریکی صارفین پر پڑنے والے بالواسطہ اثرات اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے اس جنگ کی حقیقی لاگت 150 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
امریکی دفاعی چیف نے بتایا کہ 37.5 ارب ڈالر کی موجودہ رقم میں ستمبر کے آخر تک کے کچھ آپریٹنگ اخراجات شامل ہیں۔ یہ رقم مئی کے مہینے میں جاری کیے گئے 29 ارب ڈالر کے اعداد و شمار سے 8 ارب ڈالر زیادہ ہے۔
سینیٹ میں سماعت کے دوران وزیر دفاع نے تسلیم کیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑا ہے۔
انہوں نے گائیڈڈ میزائلوں، ہائپر سونک ہتھیاروں اور ڈرون مخالف نظام کی پیداوار کو تیز کرنے کے لیے فنڈز کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا۔ ڈیموکریٹک سینیٹرز نے اتنی بڑی رقم کی درخواست پر تنقید کرتے ہوئے وزیر دفاع کو آڑے ہاتھوں لیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












