جمعرات، 13-اگست،2026
جمعرات 1448/02/30هـ (13-08-2026م)

آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والوں کیلئے ایران کی بڑی شرط، ماحولیاتی نقصان کا حساب دینا ہوگا

13 اگست, 2026 11:13

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے تمام فریقوں پر خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں قشم جزیرے کے ساحلوں پر تیل کی آلودگی کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

ان کے مطابق آلودگی خلیج فارس سے ساحل کی جانب پہنچی جبکہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ممکنہ ذریعہ ایک غیر ملکی بلک کیریئر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تین ساحلی مقامات اور سمندر کی سطح کے بعض حصوں میں آلودگی کی نشاندہی ہوئی ہے۔

ایرانی ترجمان کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے پانیوں اور سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والی وسیع آلودگی کی صرف ایک نمایاں مثال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آلودگی میں ظاہری اور پوشیدہ دونوں طرح کے نقصانات شامل ہیں اور اس کے نتیجے میں ایران کے ساحلی علاقوں کو کھربوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ماحولیاتی نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

اسماعیل بقائی نے سوال اٹھایا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصانات کا ازالہ کون کرے گا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس کی ذمہ داری ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جو خطے سے برآمد ہونے والی سستی توانائی استعمال کرتے ہیں، جہاز رانی کی انشورنس کمپنیوں پر یا ان ممالک اور ان کے اتحادیوں پر جنہوں نے ان کے بقول خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو فوجی کارروائیوں اور تباہ کن ہتھیاروں کی آزمائش کا میدان بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ساتھ طویل ترین ساحلی پٹی رکھنے والے ملک کی حیثیت سے ایران اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے ہر فریق پر خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔