برطانیہ بہت جلد دیگو گارشیا ملٹری بیس کھو دے گا، ایرانی عہدیدار

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کی فوجی مدد کرنے پر وہ دیگو گارشیا کا اسٹریٹجک بیس کھو سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے برطانیہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے ایران کے خلاف امریکی ملٹری آپریشنز کی حمایت جاری رکھی تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایرانی رکن اسمبلی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ سائیقس پیکو کا دور بہت پہلے ختم ہو چکا ہے اور وہ دن دور نہیں جب برطانیہ اپنے دیگر نوآبادیاتی علاقوں کی طرح بحر ہند میں واقع اسٹریٹجک دیگو گارشیا ملٹری بیس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے باعث ایئر ڈیفنس سسٹمز پر شدید دباؤ، امریکی فوج نے نئے انٹرسیپٹرز خریدنے کا آرڈر دے دیا
ابراہیم عزیزی نے لندن کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرحدوں کی نازک صورتحال پر غور کرے اور یاد رکھے کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں صرف روایتی آپشنز تک محدود نہیں ہیں۔
دیگو گارشیا بحر ہند میں برطانوی زیرِ انتظام علاقہ ہے، جہاں طویل معاہدے کے تحت امریکا کا ایک بہت بڑا ملٹری بیس موجود ہے، جسے ماضی میں افغانستان اور عراق میں جنگوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
ایران کے خلاف جاری موجودہ جنگ میں دیگو گارشیا کا یہ بیس امریکی بی 2 اسپرٹ جیسے جدید اور دور تک مار کرنے والے اسٹریٹجک بمبار طیاروں کی تعیناتی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ امریکا کو سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی ملک یا غیر ملکی بیس کو ایرانی افواج کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












