پاکستان اور قطر کی ثالثی، امریکہ اور ایران میں فاصلے کم کرنے کی کوششیں، آبنائے ہرمز پر تنازع برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان 3 دن سے جاری عارضی فائر بندی کے بعد قطر اور پاکستان کی ثالثی میں سفارتی ذرائع کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، تاہم آبنائے ہرمز پر دونوں فریقین میں شدید اختلافات قائم ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 3 دنوں سے جاری حملوں کی معطلی سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ خطے میں سفارتکاری کو ایک اور موقع مل سکتا ہے۔
تاہم، تہران کی جانب سے سعودی عرب، اردن اور عراق میں امریکی اڈوں اور اتحادیوں پر ڈرون حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال انتہائی نازک ہے اور یہ معطلی کسی بھی وقت ایک بڑے ٹکراؤ میں بدل سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان کی قیادت میں ثالثین واشنگٹن اور تہران کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ’’ہم اس وقت ایران سے اچھے ماحول میں بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی وزیراعظم ٹرمپ کو ایران سے متعلق انتہائی حساس معلومات دیں گے، رپورٹ
لیکن دوسری جانب ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے براہ راست گفتگو کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران نے کوئی درخواست نہیں بھیجی، صرف ثالث پیغام رسانی کر رہے ہیں۔
اس عارضی سکوت کی ایک بڑی وجہ پینٹاگون کے پاس میزائل انٹرسیپٹرز اور گولہ بارود کی مبینہ کمی بھی بتائی جا رہی ہے، جس کے بعد امریکا نے اپنے ذخائر بڑھانے کا کام شروع کیا ہے۔
لیکن جغرافیائی سیاست کی اصل گرہ آبنائے ہرمز پر اٹکی ہوئی ہے۔ جون میں طے پانے والی ابتدائی تفہیم کے ختم ہونے کے بعد ایران اس نقطے پر قائم ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر لازمی ٹول ٹیکس مسلط کیا جائے گا اور جہاز اس کے ساحل کے قریب سے گزریں گے۔ عمان نے رضاکارانہ ٹیکس کی تجویز دی ہے، جسے ایران نے مسترد کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی سینٹرل کمانڈ کا ہرمز میں 17 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنا اور 2 جہازوں پر قبضہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن نے ایران پر معاشی اور بحری گھیراؤ سخت کر رکھا ہے۔
اس بحری ناکہ بندی اور ایرانی تیل پر سے استثنیٰ ختم کرنے کے امریکی فیصلے نے تہران کو شدید مؤقف اپنانے پر مجبور کیا ہے، جس کی وجہ سے اگر قطر اور پاکستان مذاکرات کی میز سجانے میں کامیاب ہو بھی جائیں، تب بھی معاہدے کی حتمی شقوں پر اتفاق انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









