جمعرات، 13-اگست،2026
جمعرات 1448/02/30هـ (13-08-2026م)

امریکا آبنائے ہرمز کے جال میں پھنس گیا؛ سابق ایرانی سفارتکار کا بڑا مؤقف

13 اگست, 2026 13:57

تہران: سابق ایرانی سفارتکار عباس خمیار نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جاری معاشی اور فوجی دباؤ کی حکمت عملی میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور بالآخر آبنائے ہرمز کے معاملے میں خود ایک پیچیدہ صورتحال میں پھنس گیا۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے عباس خمیار نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف معاشی اور فوجی دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ان کے مطابق تہران امریکی شرائط یا واشنگٹن کے مطالبات کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔

سابق ایرانی سفارتکار نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے اہم دفاعی اور سفارتی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ ایک اہم ’’روک تھام کے کارڈ‘‘ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ان کے بقول اس صورتحال نے خطے میں فوجی کارروائیوں کی سمت پر اثر ڈالا اور فریقین کے درمیان جنگ سے متعلق حساب کتاب کو تبدیل کیا۔

عباس خمیار کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے ماضی میں کیے گئے بعض وعدوں اور ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی، اس لیے اب کسی بھی معاملے میں پیش رفت کے لیے سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران امریکی دباؤ یا یک طرفہ شرائط تسلیم کرنے کے بجائے ایسے مذاکرات چاہتا ہے جن میں دونوں فریق نیک نیتی کے ساتھ اپنے مؤقف، مطالبات اور ذمہ داریوں پر بات کریں۔

سابق ایرانی سفارتکار کے مطابق جنگ کے دوران امریکا نے آبنائے ہرمز کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا، تاہم ان کے بقول صورتحال اس کے برعکس ہوگئی اور واشنگٹن خود اس معاملے کی پیچیدگی میں الجھ گیا۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ عالمی توانائی کی تجارت میں اس کی اہمیت کے باعث یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک منتقل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی کشیدگی یا تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹ کے خدشات عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی صورتحال مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ تاہم عباس خمیار کی جانب سے امریکا کی صورتحال اور ایران کی حکمت عملی سے متعلق بیان کردہ مؤقف ان کا تجزیہ ہے اور اس کے تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔