ایران جنگ کے 6 ماہ: امریکی تیل کمپنیوں کا ریکارڈ منافع مگر خلیج میں اربوں ڈالر کے اثاثے خطرے میں پڑگئے

ایران جنگ کو 6 ماہ مکمل ہونے پر امریکی تیل کی کمپنیوں نے 2022 کے بعد کا سب سے زیادہ منافع کمایا ہے، تاہم خلیج میں ان کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
ایران کے خلاف جاری جنگ کے 6 ماہ مکمل ہونے کے بعد جہاں امریکی تیل کمپنیوں نے 2022 کے بعد کا سب سے زیادہ منافع ریکارڈ کیا ہے، وہیں خلیج میں ان کی اربوں ڈالر کی طویل المدتی سرمایہ کاری شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔
28 فروری 2026 کو جنگ کے آغاز سے اب تک برینٹ خام تیل کی قیمت 22 فیصد کے اضافے کے ساتھ 72 ڈالر سے بڑھ کر 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
عالمی ایندھن کی نقل و حمل کی سب سے اہم راہداری آبنائے ہرمز تجارتی آمدورفت کے لیے بیشتر بند ہے، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران نے تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کے لیے بے پناہ منافع کا راستہ کھولا ہے۔
غیر جانبدار تحقیقاتی ادارے رائسٹاڈ انرجی کے نائب صدر راہل چوہدری کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے خلیجی خطے سے امریکی کمپنیوں کی تیل اور گیس کی رسد پر برا اثر ڈالا ہے۔
رواں برس پچھلے سال کے مقابلے میں خطے سے امریکی کمپنیوں کی گیس کی فراہمی میں 40 فیصد اور تیل کی فراہمی میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی افواج کا یو اے ای میں قائم امریکی ایئربیس پر خودکش ڈرونز سے حملہ
گو کہ تیل کی بلند قیمتوں نے کمپنیوں کے فوری مالیاتی نقصانات کا ازالہ کر دیا ہے، لیکن طویل جنگی صورتحال نئے منصوبوں میں تاخیر اور کمپنیوں کی مستقبل کی ترقی کو شدید متاثر کر رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کمپنیوں کے اثاثوں کی بات کی جائے تو ایکسن موبل اور کونوکو فلپس جیسے بڑے ادارے قطر کے نارتھ فیلڈ گیس منصوبے اور متحدہ عرب امارات کے اوپر زاکوم آئل فیلڈ میں اہم شراکت دار ہیں۔
دوسری طرف آکسیڈینٹل پیٹرولیم عمان اور عراق میں جبکہ شیورون سعودی عرب اور کویت کے مشترکہ زون میں تیل نکالنے کا کام کرتی ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایران اور اس کے اتحادیوں نے خلیجی تعاون کونسل کے 6 ممالک میں غیر فوجی تنصیبات پر کم از کم 172 حملے کیے ہیں، جن میں سے 48 فیصد حملے ایندھن کے مراکز، آئل ریفائنریوں اور گیس کمپلیکس پر کیے گئے۔
سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری ابقیق، کویت کی منی عبداللہ، بحرین کی ریفائنری اور قطر کا راس لفان انڈسٹریل سٹی ان حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔
قطر کے گیس منصوبوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت پر تقریباً 3 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی اور اسے بحال ہونے میں 3 سے 5 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خلیجی ممالک اور امریکہ پر شدید معاشی دباؤ بنانا ہے۔ دوسری جانب امریکی آئل فیلڈ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں جیسے ہالی برٹن اور بیکر ہیوز کے منافع پر بھی لاجسٹک اخراجات بڑھنے کی وجہ سے منفی اثر پڑا ہے۔ یوں امریکی کمپنیوں کے لیے خلیج کا خطہ بیک وقت ریکارڈ منافع اور بدترین تباہی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












