منگل، 28-جولائی،2026
منگل 1448/02/14هـ (28-07-2026م)

گزشتہ 50 سال سے تمام اسرائیلی حکومتیں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی کوشش کرتی رہیں، جواد ظریف

28 جولائی, 2026 10:54

جواد ظریف نے اپنے تفصیلی جائزے میں کہا ہے کہ گزشتہ 5 دہائیوں سے مسلسل تمام اسرائیلی حکومتیں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتکاری کو ناکام بنانے اور دونوں کو تصادم کی راہ پر رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

ایران کے جوہری معاہدے کے اہم معمار اور سابق وزیر خارجہ جواد ظریف کے ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے صدر ٹرمپ سے ملاقات کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم ہونے سے روکنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے بلکہ 50 سال سے زائد عرصے پر محیط تاریخ کا ایک تسلسل ہے، جس میں ڈیکلاسیفائیڈ انٹیلی جنس اور امریکی حکام کی یادداشتیں بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔

تاریخی شواہد پیش کرتے ہوئے جواد ظریف نے لکھا کہ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران بھی اسرائیلی حکمت عملی یہی تھی کہ دونوں میں سے کوئی ملک نہ جیتے تاکہ دونوں عسکری و معاشی طور پر کمزور رہیں۔

بعد ازاں 1991ء میں لبنان میں مغربی یرغمالیوں کی رہائی کے موقع پر جب امریکی صدر جارج بش سینئر نے حسنِ نیت کے جواب کی بات کی، تو اسرائیل نے لبنانی و فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو روک کر اور اپنے لاپتہ فوجیوں کا شرط رکھ کر اس تاریخی موقع کو ضائع کروایا۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور قطر کی ثالثی، امریکہ اور ایران میں فاصلے کم کرنے کی کوششیں، آبنائے ہرمز پر تنازع برقرار

اسی طرح 11 ستمبر کے بعد جب ایران نے افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کیا، تو اسرائیل نے جنوری 2002ء میں کارین اے جہاز کا ڈرامہ رچا کر صدر بش کے خطبے پر اپنے اثرات مرتب کیے، جہاں اسرائیلی دفاعی حکام واشنگٹن میں جا کر یہ بیانیہ بناتے رہے کہ عراق نہیں بلکہ ایران اصل دشمن ہے۔

جواد ظریف کے مطابق 2015ء کا ایٹمی معاہدہ (جے سی پی او اے) بننے پر نیتن یاہو نے امریکی کانگریس میں جا کر بغیر دعوت کے خطاب کیا اور ٹرمپ کے دور میں یہی معلومات پیش کر کے معاشی پابندیاں اور قاسم سلیمانی کی شہادت تک حالات پہنچائے۔

تازہ ترین 2026ء کے اسلام آباد یادداشتِ پیش رفت کے حوالے سے ظریف کا کہنا ہے کہ اس کو بھی سبوتاژ کرنے میں بیرونی عناصر نے کردار ادا کیا۔

انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کا حوالہ دیا، جس میں وینس نے تسلیم کیا کہ اسرائیلی نظام کے اندر کچھ لوگ امریکی رائے عامہ کو گمراہ کر رہے ہیں تاکہ یہ جنگ غیر معینہ مدت تک چلتی رہے۔

جواد ظریف نے نتیجہ اخذ کیا کہ 40 سال کی سفارت کاری کا نچوڑ یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کا تنازع صرف ان دو کا نہیں بلکہ ان علاقائی قوتوں کی سازشوں کا شاہکار ہے، جو امن سے خوفزدہ ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔