ہفتہ، 15-اگست،2026
ہفتہ 1448/03/02هـ (15-08-2026م)

ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان پر سخت ردعمل سامنے آگیا

15 اگست, 2026 10:38

تہران: ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں یا طاقت کے مظاہرے سے خوفزدہ نہیں۔

کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہوگا اور تہران اس معاملے پر کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جلد اس اہم آبی گزرگاہ کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔

فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت، اس کے ذریعے بحری آمدورفت اور خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق سوالات بھی شدت اختیار کرگئے ہیں۔

کاظم غریب آبادی نے امریکی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے اختیار اور مؤقف پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ایران طویل عرصے سے آبنائے ہرمز کو اپنی قومی سلامتی اور علاقائی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا آیا ہے۔ خطے میں کسی بھی فوجی یا بحری کشیدگی کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کی صورتحال براہ راست عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ خلیج فارس کے توانائی پیدا کرنے والے ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اس راستے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی، بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ یا فوجی محاذ آرائی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، شپنگ انشورنس اور توانائی کی سپلائی پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

ٹرمپ اور ایرانی حکام کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشمکش میں ایک اہم سیاسی، معاشی اور اسٹریٹیجک معاملہ بھی بن چکی ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا سخت ردعمل اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران امریکی دباؤ کے باوجود آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے معاشی اور فوجی دباؤ بڑھانے کے اعلانات نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔