ایرانی کارروائیوں کے باعث امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے 400 کلومیٹر پیچھے ہٹ گئے، پاسدارانِ انقلاب

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ شدید نقصان اور ذہنی دباؤ کے باعث امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے 400 کلومیٹر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان برگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ شدید لاجسٹک اور عملے کے ٹوٹتے حوصلوں کی وجہ سے امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کو اپنے اہلکاروں کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت، ہتھیاروں کی کمی اور بحری جہازوں کے شدید نقصان کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں اس کی موجودہ صورتحال برقرار رہنا ناممکن ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران 51 سال سے مشرق وسطیٰ کا غنڈہ بنا ہوا تھا، اب نہیں رہا، ہم جنگ جیت رہے ہیں، ٹرمپ
جنرل محبی کے مطابق رمضان کی جنگ سے پہلے خلیج فارس کے اندر 30 سے 40 کے قریب امریکی جنگی جہاز اور بحری بیڑے موجود تھے، لیکن آج اس پورے علاقے میں ایک بھی امریکی جنگی جہاز موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی فورسز کی صلاحیت اب ساحل سے بہت دور تک پھیل چکی ہے اور کچھ دن پہلے ہی ایرانی فورسز نے 500 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ایک امریکی طیارہ بردار جہاز کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے گزشتہ روز قبضے میں لیے گئے جدید امریکی زیرِ آب ڈرون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ہماری طاقت کا مرکز ہے اور تہران اس کا استعمال دشمن کے کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کے لیے کرے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











