ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق شرائط پر امریکہ کے حتمی جواب کا انتظار ہے، ایرانی وزیر خارجہ

ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے شرائط پر ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے حتمی جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے اور تہران اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کی سفارتی کوششوں کا بنیادی مرکز اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط سے آگاہ کرنا اور مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن اور سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اپنی شرائط پہنچا دی ہیں اور انہیں پوری طرح واضح کر دیا ہے، جنہوں نے بعد میں یہ شرائط امریکی فریق تک پہنچائی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابتدائی ردعمل مل چکا ہے، لیکن تاحال ثالثوں کا حتمی پیغام نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں : چینی صدر شی جن پنگ کا امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی طرف لوٹنے پر زور
عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی طرف کوئی بھی قدم تہران کے مطالبات کی تکمیل سے مشروط ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ثالثوں کے ذریعے حتمی خیالات ہم تک پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں اور اسی کی بنیاد پر ہم اپنا فیصلہ کریں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران نے نہ تو کبھی سفارت کاری یا مذاکرات کے دروازے بند کیے اور نہ ہی اپنے حقوق سے کبھی دستبردار ہوا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








