گرین لینڈ میں ٹرمپ سے منسلک امریکی آئل کمپنی کو بغیر اجازت ڈرلنگ پر سخت وارننگ

گرین لینڈ کے حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسلک ایک امریکی آئل کمپنی کو ڈرلنگ کا سامان بغیر سرکاری اجازت ساحل پر اتارنے پر سخت وارننگ جاری کردی۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق گرین لینڈ کے محکمہ صنعت و معدنیات نے بتایا کہ گزشتہ ماہ جزیرے کے مشرقی ساحل پر تیل کی تلاش اور ڈرلنگ کے لیے مشینری پہنچائی گئی، تاہم کمپنی کے پاس سامان اتارنے کے لیے ضروری سرکاری اجازت نامے موجود نہیں تھے۔
محکمہ صنعت و معدنیات نے کہا ہے کہ کمپنی کو اس معاملے پر سخت وارننگ جاری کی جائے گی۔
گرین لینڈ کی حکومت اس سے قبل بھی ٹیکساس میں قائم کمپنی گرین لینڈ انرجی کو اس معاملے پر خبردار کرچکی ہے۔ حکام نے واضح کیا تھا کہ مستقبل میں منصوبے سے متعلق تمام لاجسٹک سرگرمیوں کی پیشگی اطلاع معدنی وسائل کے حکام کو دینا اور ان کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگی۔
جیمسن لینڈ میں تیل کی تلاش
ڈرلنگ کا سامان گرین لینڈ کے جیمسن لینڈ کے علاقے میں تیل کی تلاش کے منصوبے کے لیے پہنچایا گیا تھا۔ گرین لینڈ انرجی کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے میں ایک کھرب ڈالر تک مالیت کا خام تیل موجود ہوسکتا ہے۔
گزشتہ سال قائم ہونے والی کمپنی نے منصوبے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے عوض تیل کی تلاش کے منصوبے میں اکثریتی حصہ حاصل کیا ہے۔
گرین لینڈ میں امریکی دلچسپی
گرین لینڈ حکام اور امریکی کمپنی کے درمیان یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گرین لینڈ میں امریکی دلچسپی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ گرین لینڈ ڈنمارک کی بادشاہت کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے۔
ڈرلنگ کا سامان ساحل پر پہنچائے جانے کی اطلاعات کے چند روز بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہیں گرین لینڈ کے ایک گاؤں کا جائزہ لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور ساتھ ’’ہیلو، گرین لینڈ!‘‘ کا پیغام درج تھا۔
ٹرمپ نے جنوری 2025 میں گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے گرین لینڈ کو امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا تھا۔
اگرچہ بعد میں ٹرمپ کے بیانات میں شدت کم ہوئی، تاہم وہ گرین لینڈ کو اب بھی تزویراتی اعتبار سے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں اور اسے اپنے مجوزہ ’’گولڈن ڈوم‘‘ میزائل دفاعی نظام سے بھی جوڑ چکے ہیں۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف
گرین لینڈ اور ڈنمارک نے اپنی خودمختاری کے تحفظ پر واضح مؤقف اختیار کر رکھا ہے اور کسی بھی ممکنہ امریکی جارحیت کی صورت میں بھرپور ردعمل کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈریکسن اس سے قبل خبردار کرچکی ہیں کہ گرین لینڈ کے خلاف کسی بھی امریکی جارحیت کے نتیجے میں نیٹو اتحاد کو بھی سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ امریکا اور ڈنمارک دونوں اس فوجی اتحاد کے رکن ہیں۔
ڈرلنگ کے سامان کو مبینہ طور پر بغیر اجازت ساحل پر اتارنے کا تازہ معاملہ گرین لینڈ کے قدرتی وسائل، خودمختاری اور بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کے حوالے سے جاری وسیع تر کشیدگی میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












