جمعرات، 3-ستمبر،2026
بدھ 1448/03/20هـ (02-09-2026م)

چین کی جانب سے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو یکسر مسترد کرنے کی بنیادی وجوہات

02 ستمبر, 2026 10:41

امریکی پابندیوں کے اعلان کے باوجود چین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات میں امریکی پابندیوں کی تعمیل نہیں کرے گا۔

شانگہائی تعاون تنظیم کا سالانہ اجلاس بشکیک میں منعقد ہوا، جس میں چین، روس اور بھارت کے سربراہان کے علاوہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی شرکت کی۔

اس اجلاس کے اعلامیے میں ایک ایسے نئے عالمی ترقیاتی بینک کے قیام کا مطالبہ کیا گیا، جو مغربی مالیاتی نظام کی بلیک میلنگ سے مکمل آزاد ہو۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا، جب امریکہ نے ایران پر نئی سخت معاشی پابندیوں کا اعلان کر رکھا تھا، لیکن اس کے باوجود بشکیک میں ایرانی صدر کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ واشنگٹن کے لیے اپنی پابندیوں پر عالمی سطح پر عمل درآمد کروانا اب انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں چین امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

چین اس وقت ایران کی خام تیل کی کل برآمدات کا 90 فیصد حصہ خود خرید رہا ہے، جس کی بدولت ایرانی معیشت امریکی پابندیوں کے باوجود مضبوطی سے کھڑی ہے۔

چین ان امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے نجی ریفائنریز اور مختلف ذرائع کا استعمال کرتا ہے۔ جب امریکہ نے پابندیوں کی تعمیل کا مطالبہ کیا تو چینی وزارت خارجہ نے واضح کہا کہ وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی پابندیوں کے باوجود چین روزانہ 12 لاکھ بیرل ایرانی تیل خرید رہا ہے، امریکی رپورٹ

چین معاشی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لاتا اور کسی تیسرے ملک کے ساتھ اپنے دوطرفہ تجارتی تعلقات میں امریکی مداخلت کو مکمل طور پر غیر قانونی سمجھتا ہے۔

اس کے علاوہ چینی بینک اور کمپنیاں اپنی زیادہ تر لین دین چینی کرنسی ین یا براہ راست اشیاء کے تبادلے کے ذریعے کرتی ہیں، جس پر امریکی قانون کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

چینی حکمت عملی کے پس منظر میں جیو پولیٹیکل مفادات بھی نہایت اہم ہیں۔ چین کا ماننا ہے کہ اگر ایران کو نقصان پہنچا تو پورا مشرق وسطیٰ دوبارہ مکمل طور پر امریکی اثر و رسوخ میں چلا جائے گا، جس سے چین کی توانائی کی سیکیورٹی شدید متاثر ہو گی۔

چین اپنی خام تیل کی ضروریات کا 40 فیصد حصہ خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے، جس میں 10 فیصد حصہ اکیلے ایران کا ہے۔

اگر ایران پر امریکہ کا مکمل کنٹرول قائم ہو گیا، تو چین کی معاشی شہ رگ واشنگٹن کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ چین محتاط انداز میں توازن بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

بیجنگ اپنے بڑے خلیجی عرب اتحادیوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ اپنے اعلیٰ سطحی تعلقات کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چینی صدر نے ایس سی او اجلاس کے دوران ایرانی صدر سے الگ سے باضابطہ ملاقات سے گریز کیا اور ایران کو جنگی ہتھیار نہ دینے کے عزم پر قائم رہے تا کہ واشنگٹن کے ساتھ سفارتی توازن قائم رکھا جا سکے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔