بدھ، 19-اگست،2026
بدھ 1448/03/06هـ (19-08-2026م)

خلیج فارس سے تمام امریکی جنگی جہاز واپس جا چکے ہیں: پاسداران انقلاب

12 اگست, 2026 08:44

تہران: ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد خلیج فارس میں اس وقت امریکا کا ایک بھی جنگی جہاز موجود نہیں۔

بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی جہاز موجود تھے، جبکہ ماضی میں ایران عراق جنگ کے دوران امریکا نے اس خطے میں 100 سے زائد جنگی جہاز تعینات کیے تھے۔

ایرانی کمانڈر کے مطابق موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے اور خلیج فارس میں اب امریکا کا کوئی جنگی جہاز موجود نہیں۔ تاہم پاسداران انقلاب کے ترجمان نے اپنے بیان میں اس دعوے کے حوالے سے مزید تفصیلات یا شواہد فراہم نہیں کیے۔

حسین محبی نے کہا کہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں کے نتیجے میں دشمن کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اسالویہ انرجی حب کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے خلاف ایسے حملے کیے گئے جن کے باعث امریکا کے لیے اسی شدت کے ساتھ جنگ جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں ایران کو دوبارہ خطرات کا سامنا کرنا پڑا تو ایران کا ردعمل مزید وسیع ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں خطے کے تمام امریکی اور غیر امریکی توانائی کے نظام اور انٹرنیٹ سے منسلک عالمی انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے تاہم ان امریکی بحری جہازوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں جن کے بارے میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے متعلق دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز خطے میں توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے ہیں۔ یہاں امریکی اور ایرانی فوجی سرگرمیوں میں کسی بھی بڑی تبدیلی کو خطے کی سکیورٹی اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔