امریکی فوج کا سستے اینٹی ڈرون میزائل تیار کرنے کا فیصلہ

امریکی فوج نے ذخائر میں کمی کے بعد چھوٹے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر سے کم قیمت والے سستے میزائل انٹرسیپٹر کی تلاش شروع کر دی۔
ایران کے ساتھ جنگ میں 1500 سے زائد پیٹریاٹ اور 200 سے زائد تھاڈ میزائل استعمال ہونے کے باعث امریکا کا جدید ہتھیاروں کا ذخیرہ شدید متاثر ہوا ہے۔
امریکی فوج نے اپنے دفاعی ذخائر میں کمی کے بعد چھوٹے ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے سستے میزائل انٹرسیپٹر تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق اس نئے میزائل کی فی یونٹ قیمت ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر سے کم رکھی جائے گی، ابتدائی طور پر کم از کم 5 ہزار میزائل تیار کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ میں امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کا 80 فیصد ذخیرہ ختم
نئے اینٹی ڈرون نظام کے لیے طے شدہ شرائط کے تحت یہ انٹرسیپٹر 20 سے ایک ہزار 300 پاؤنڈ وزنی چھوٹے ڈرونز کو 15 میل کے فاصلے پر نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھے گا۔
اس کے علاوہ میزائل کو 5 سیکنڈ کے اندر فائر کرنے اور موجودہ دفاعی سسٹمز کے ساتھ جوڑنے کی قابلیت بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق ستمبر 2027 تک اس ٹیکنالوجی کے پہلے ٹیسٹ مکمل کر کے اسے فوری طور پر تعینات کیا جائے گا۔
امریکی دفاعی صلاحیتوں کو درپیش اس بحران کی بڑی وجہ خطے میں جاری کشیدگی ہے۔ اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے مطابق ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکا ایک ہزار 500 سے زائد پیٹریاٹ اور 200 کے قریب تھاڈ انٹرسیپٹر استعمال کر چکا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی فوج کے پاس موجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے زمین سے زمین پر وار کرنے والے میزائلوں کا ذخیرہ بھی تقریباً ختم ہو چکا ہے، جس سے امریکی عسکری تیاریاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









