تجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدر

امریکی نائب صدر نے ایران کو تجارتی جہازوں پر حملے فوری روکنے کا مشورہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک بحری حملے بند نہیں ہوتے ایران سے کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے شدید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنا پاگل پن فوری طور پر چھوڑ دے اور عالمی سمندری حدود میں کشیدگی پھیلانا بند کرے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی اور آئل جہازوں پر اپنے حملے بلا تاخیر بند کرے۔ جب تک ایران تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کرتا، تب تک امریکا کی جانب سے ایران سے کسی قسم کی سفارتی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی عوام سڑکوں پر کیوں نہیں آ رہے؟ ٹرمپ کی تشویش اور نیتن یاہو کے منصوبے کی ناکامی
عالمی منڈیوں میں خام تیل کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات اور تیل کی قیمتوں میں یہ شدید اضافہ صرف اور صرف ایران کی بلاوجہ کی کارروائیوں کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کے علاقے میں بحری آمدورفت اور جہازوں کی نقل و حمل محفوظ نہ رہی، تو پوری دنیا کو ایک انتہائی شدید اور عالمی توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری تہران پر عائد ہو گی۔
جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت امریکی بحریہ اور فورسز بڑی تعداد میں عالمی تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی اور تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ سخت کشیدگی کے باوجود گزشتہ رات 15 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی نائب صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین بھی ایران پر سفارتی دباؤ ڈالنے اور معاملے کو حل کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون اور اشتراک کرنے کے لیے تیار ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










