جمعہ، 25-ستمبر،2026
جمعہ 1448/04/14هـ (25-09-2026م)

ایف بی آر کا نیشنل فیس لیس سینٹر قائم: ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کا براہ راست رابطہ ختم

25 ستمبر, 2026 18:12

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر (این ایف سی) قائم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بورڈ ان کونسل نے آج اپنے اجلاس میں کیا۔ نیشنل فیس لیس سینٹر ایک بڑا اقدام ہے جو پاکستان میں ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے طریقہ کار کو بدل دے گا۔

اب تک اگر کسی ٹیکس دہندہ کا گوشوارہ آڈٹ کے لیے منتخب ہوتا تو اسے ایک مخصوص دفتر کے ایک مخصوص افسر سے، اکثر بالمشافہ، معاملہ کرنا پڑتا تھا۔ نئے نظام میں یہ رابطہ ختم ہو جائے گا۔ کیسز کا انتخاب کوئی افسر نہیں بلکہ ایک کمپیوٹرائزڈ، رسک پر مبنی نظام کرے گا۔ اس کے بعد ہر کیس خودکار طریقے سے ملک میں کہیں بھی موجود کسی افسر کو تفویض کر دیا جائے گا۔ ٹیکس دہندہ کو معلوم نہیں ہوگا کہ افسر کون ہے اور افسر کا اس بات میں کوئی اختیار نہیں ہوگا کہ کون سا کیس اس کے پاس آئے۔

ہر کیس تین الگ الگ ہاتھوں سے گزرے گا۔ ایک افسر آڈٹ کرے گا، دوسرا اسیسمنٹ کرے گا اور تیسرا کوئی بھی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے اس کام کے معیار کا جائزہ لے گا۔ کوئی ایک افسر شروع سے آخر تک کسی ٹیکس دہندہ کے کیس پر اختیار نہیں رکھے گا۔

تمام نوٹس، جوابات اور سماعتیں ایف بی آر کے آئی آر ایس نظام کے ذریعے الیکٹرانک طور پر ہوں گی۔ جہاں قانون کے تحت موقع پر تصدیق یا ٹیکس وصولی کی ضروری ہوگی، وہ کام ایک علیحدہ فیلڈ ٹیم انجام دے گی۔

نیشنل فیس لیس سینٹر کو قانونی اختیار فنانس ایکٹ 2026 سے حاصل ہے۔ اس کی سربراہی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کرے گا اور اس میں فیس لیس آڈٹ، فیس لیس اسیسمنٹ، کوالٹی کنٹرول اور فیلڈ آپریشنز کے لیے علیحدہ شعبے ہوں گے۔ اس کے نفاذ کی نگرانی کے لیے پروگرام مینجمنٹ یونٹ پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے۔

اس اصلاح کا مقصد ہر ٹیکس دہندہ کے لیے ایک جیسے قواعد، ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے اور اس بالمشافہ رابطے کا خاتمہ ہے، جو عرصے سے شکایات کا سبب رہا ہے۔ ایف بی آر کو توقع ہے کہ نیشنل فیس لیس سینٹر ملک بھر کے ٹیکس دہندگان کے لیے ٹیکس کارروائی کو تیز تر، منصفانہ اور شفاف بنائے گا۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔