جمعہ، 25-ستمبر،2026
جمعہ 1448/04/14هـ (25-09-2026م)

اسلام آباد کی طرف پی ٹی آئی کی یہ آخری کوشش ہے، دوبارہ رخ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے: خواجہ آصف

25 ستمبر, 2026 15:22

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایک بڑی اسلامی اور ایٹمی ریاست کا دارالحکومت ہے، اور تحریک انصاف کی اسلام آباد کی طرف یہ آخری کوشش ہوگی، جس کے بعد وہ کبھی یہاں کا رخ نہیں کر سکیں گے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نیویارک میں میں صحافیوں سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ پاکستان اور اس کا دارالحکومت اسلام آباد ایک بڑی اسلامی ایٹمی ریاست کا مرکز ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف ان کا رخ کرنا شاید آخری کوشش ثابت ہوگا کیونکہ اس کے بعد وہ کبھی دوبارہ اسلام آباد کا رخ کرنے کے قابل نہیں رہ سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک اس قسم کی مسلسل کشیدگی اور فتنہ پرور صورتحال کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے یہ ایک فیصلہ کن معرکہ ہے، جو ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے اپنے دو رہنماؤں کو حکومت سے پس پردہ رابطوں کا ٹاسک دے دیا

بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ سال ہونے والے ٹاکرے کے بعد سے بھارت دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے اور اب اس کے پلے کچھ نہیں بچا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم کو دنیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت کے مذموم چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جائے گا۔

سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات کی وجہ سے سیاسی بیانات اور پوسٹرنگ کی جا رہی ہے، لیکن امید ہے کہ خطے بالخصوص اور دنیا بھر میں امن قائم ہوگا اور معاشی استحکام آئے گا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت اس معاہدے کو توسیع دینے یا اس میں کسی نئے ملک کو شامل کرنے کی کوئی باضابطہ تجویز زیرِ غور نہیں ہے، لوگ صرف اپنی خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں، اور جب اس کا سیکریٹریٹ اور تمام ڈھانچہ مکمل طور پر قائم ہو جائے گا تو متعلقہ ٹرائی لیٹرل حکومتیں ہی اس پر آئندہ کوئی غور کریں گی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔