اتوار، 30-اگست،2026
اتوار 1448/03/17هـ (30-08-2026م)

اسرائیل کے غیر اعلانیہ ایٹمی ہتھیار اور مغرب کا دوہرا معیار

30 اگست, 2026 11:00

عالمی ایٹمی آرڈر کی 7 دہائیوں سے جاری سب سے بڑی منافقت اسرائیل کے غیر اعلانیہ ایٹمی ہتھیار ہیں، جنہیں مغرب کی سرپرستی میں عالمی قوانین، این پی ٹی اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاری کے نظام سے مکمل طور پر مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

گزشتہ 7 دہائیوں سے عالمی ایٹمی نظام ایک بدترین تضاد کا شکار ہے، جہاں ایک ناپائیدار اور غیر قانونی وجود عالمی قوانین اور این پی ٹی (Nuclear Non-Proliferation Treaty) پر دستخط کیے بغیر دنیا کے سب سے جدید ترین ایٹمی ہتھیاروں پر قابض ہے۔

اسرائیل نے نہ کبھی این پی ٹی پر دستخط کیے اور نہ ہی کبھی اپنے ایٹمی مراکز کو آئی اے ای اے کے معائنے کے لیے کھولا۔ مغرب بالخصوص امریکہ اور فرانس کی سرپرستی اور مجرمانہ خاموشی نے اس ایٹمی استثناء کو جنم دیا، جبکہ فرانس نے 1957 میں ڈیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر اور پلوٹونیم پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے میں براہ راست مدد کی تھی۔

1986 میں ڈیمونا کے تکنیک کار ماردے چائی بانونو نے تصاویر اور حقائق افشا کر کے دنیا کو بتایا تھا کہ اسرائیل 100 ایٹمی وار ہیڈز تیار کر چکا ہے، لیکن عالمی برادری نے کارروائی کرنے کے بجائے بانونو کو موساد کے ذریعے اغوا کروا کر 18 سال کے لیے قید کروا دیا۔

تخمینوں کے مطابق اسرائیل کے پاس 90 سے 400 ایٹمی وار ہیڈز کا ذخیرہ موجود ہے، جن میں جیریکو بیلسٹک میزائل، ایٹمی صلاحیت کے حامل F-15I طیارے اور ڈولفن کلاس آبدوزیں شامل ہیں، جو ایٹمی کروز میزائل داغ سکتی ہیں۔ اس کے پاس 2025 تک 0.9 میٹرک ٹن پلوٹونیم کا ذخیرہ موجود ہے، جو 200 سے زائد بم بنانے کے لیے کافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 45 امریکی سینیٹرز کا اسرائیل سے مغربی کنارے میں تشدد فوری روکنے کا مطالبہ

دوسری جانب، این پی ٹی پر دستخط کرنے والے ملک ایران نے تمام تر قانونی معائنے برداشت کیے، لیکن 2015 کے جے سی پی او اے معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی اور مسلسل پابندیوں نے عالمی اداروں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا۔

جب بھی عرب ممالک یا اقوام متحدہ میں اسرائیل کے ایٹمی اثاثوں کو آئی اے ای اے کے تحت لانے کی قرارداد پیش کی جاتی ہے، امریکہ اپنے ویٹو اور اثر و رسوخ کے ذریعے اسے ناکام بنا دیتا ہے۔

آئی اے ای اے کو مغربی طاقتوں نے ایک غیر جانبدار ادارے کے بجائے ایران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کا سیاسی ہتھیار بنا دیا ہے۔

اسرائیل کی اس ایٹمی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے بیگن ڈاکٹرائن کے تحت پیشگی فوجی حملے کیے گئے، جس میں 1981 میں عراق کے اوسیراک اور 2007 میں شام کے الکبار ری ایکٹر پر حملے ہیں۔

ایران کے خلاف سائنسدانوں کے قتل، اسٹکس نیٹ سائبر حملے اور حال ہی میں امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے پرامن ایٹمی مراکزی پر حملے بھی اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔

اسرائیل کی یہ ایٹمی طاقت گریٹر اسرائیل کے توسیعی پسندانہ نظریے کے لیے ایک ڈھال کا کام کر رہی ہے، جس کے تحت وہ غصہ، فلسطین، لبنان اور پورے خطے کو تباہی کی دھمکی دیتا ہے۔

اگر دنیا خطے میں پائیدار امن چاہتی ہے تو اس کا واحد حل یہ ہے کہ عالمی برادری اور عرب ممالک مل کر اسرائیل پر این پی ٹی کی پابندی لگانے اور اس کے ایٹمی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔