ایران کے دباؤ کے بعد ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق پوسٹ حذف کردی

خطے میں امریکی مراکز ایران کے جائز اہداف ہوں گے، قالیباف کا ٹرمپ کو سخت انتباہ
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثوں کے دباؤ پر آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کا ایک اہم حصہ حذف کیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف نے بتایا کہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کی شہادت کے بعد ایران نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات معطل کردیے تھے۔
قالیباف کے مطابق حملے میں حزب اللہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ اپنے اہل خانہ سمیت شہید ہوئے، جس کے بعد ایران نے مذاکراتی عمل روکنے کا فیصلہ کیا۔
ایرانی چیف مذاکرات کار نے دعویٰ کیا کہ ایران نے واضح کردیا تھا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے مزید کارروائی کی گئی تو ایران بھی اسی رات جواب دے گا اور ضرورت پڑنے پر پورے خطے میں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
قالیباف کے مطابق اسی دوران امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک اہم اعلان سامنے آیا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کھولے گا۔
محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے ٹرمپ کی پوسٹ دیکھی تو انہوں نے ثالثوں سے رابطہ کرکے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
ان کے مطابق انہوں نے ثالثوں کو پیغام دیا کہ اگر ٹرمپ کی پوسٹ کا متنازع حصہ فوری طور پر حذف نہ کیا گیا تو ایران اپنے اعلان کردہ ردعمل پر عمل کرے گا۔
قالیباف نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 58 منٹ بعد ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کا دوسرا حصہ حذف کردیا اور بعد ازاں یہ مؤقف اختیار کیا کہ آبنائے ہرمز معاہدے کے تحت ہفتے کے روز کھولی جائے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات محض سفارتی گفتگو نہیں بلکہ ایک طرح کی جدوجہد ہیں۔
ان کے مطابق ایران مذاکرات میں اپنے قومی مفادات اور مؤقف پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنے حقوق کے تحفظ کو ترجیح دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی چند روز بعد دوبارہ شروع کردی گئی اور تاحال جاری ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دھمکی دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایرانی حکام نے ٹرمپ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں بھی ایران سے وابستہ رہی ہے، آج بھی ایران کے اختیار میں ہے اور آئندہ بھی اس پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند یا کھولنے کا فیصلہ ایران کی مرضی اور حالات کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ امریکا اس اہم آبی گزرگاہ سے متعلق اپنے دعووں کے ذریعے خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










