ایران کی عسکری حکمت عملی نے امریکی پالیسیوں کو ناکام بنا دیا

ایران نے اپنی مضبوط عسکری حکمت عملی اور شدید ردعمل کے ذریعے امریکی حملوں کو روکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی تمام تر دھمکیاں ناکام ہو گئیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر بڑا حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ صرف دفاعی میزائلوں کی کمی نہیں بلکہ ایران کی میدانِ جنگ پر مکمل برتری کا نتیجہ ہے۔
جب امریکہ نے 7 اور 8 جولائی کو ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے تو ایران اور اس کے اتحادیوں نے فوراً جواب دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر بند کر دیا اور خلیج میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر ان کا دفاعی نظام مفلوج کر دیا۔
اس کے ساتھ ساتھ عراق میں موجود ان کرد گروہوں کے خلاف شدید کارروائی کی گئی، جو سی آئی اے اور موساد کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے، جبکہ یمن کی انصار اللہ نے بھی بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کر کے امریکی اتحاد کی تمام تر تدبیروں کو الٹا کر کے رکھ دیا۔
یہ بھی پڑھیں : سی آئی اے اور موساد ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا سراغ لگانے میں ناکام
امریکہ کی طرف سے دیئے گئے دھمکی آمیز اختیارات یکسر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ امریکہ کا خارگ آئی لینڈ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بھی بھاری جانی نقصان کے خوف کی وجہ سے رک گیا ہے، کیونکہ ماہرین کے مطابق اس معرکے میں 5 ہزار سے 30 ہزار تک امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو سکتے تھے۔
اسی طرح ایران کے نیوکلیئر سینٹر پیکیکس ماؤنٹین پر بمباری کا منصوبہ بھی بیکار ثابت ہوا کیونکہ امریکہ صرف پہاڑ کا راستہ ہی بند کر سکتا تھا، جسے ایران پہلے بھی کئی بار دوبارہ کھول چکا ہے۔
امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی ذہنیت ہے، جس کے تحت اس نے ایران کو کمزور سمجھنے کی غلطی کی۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تاریخ میں کسی بھی مغربی سلطنت کو ایران جیسی اعلیٰ تکنیکی اور صنعتی صلاحیت رکھنے والی آزادی کی تحریک سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔
اِیران میں ہر ایک لاکھ آبادی پر 281 انجینئرز موجود ہیں، جو کہ مغرب اور چین کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، اسی صلاحیت کے باعث ایران امریکہ کے ہر حملے کا برابر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










