جان بچانے والی 52 نئی ادویات کی قیمتیں رواں ماہ مقرر ہونے کا امکان

پاکستان میں مختلف سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی 52 نئی ادویات کی قیمتیں رواں ماہ مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے اہم حکام کی ملاقات بھی طے ہے۔ ملاقات میں نئی ادویات کی قیمتوں اور ہارڈ شپ کیسز پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر صحت، وزیر خزانہ اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو افسر کی ملاقات متوقع ہے۔ جس میں 52 نئی ادویات کے قیمتوں کے معاملے پر بات ہوگی۔
حکام کی جانب سے وزیراعظم سے ملاقات کا ایک مقصد نئی ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے حمایت حاصل کرنا بھی بتایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ہارڈ شپ کیسز پر بھی حکومت کے سامنے تفصیلات رکھی جائیں گی۔ مختلف بیماریوں کی تقریباً 100 ادویات کے ہارڈ شپ کیسز اس وقت زیر التوا ہیں۔
ان 52 نئی ادویات میں کئی ایسی دوائیں شامل ہیں جو سنگین اور جان لیوا بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا، آٹو ایمیون ڈس آرڈر اور خون کی مختلف بیماریوں کے علاج کی ادویات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انتہائی نگہداشت، سنگین انفیکشن اور ہنگامی طبی صورتحال میں استعمال ہونے والی ادویات بھی فہرست کا حصہ ہیں۔ ان ادویات کی دستیابی مریضوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو پیچیدہ بیماریوں کا علاج کروا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈریپ پالیسی بورڈ اور پرائسنگ کمیٹی پہلے ہی ان 52 نئی ادویات کی منظوری دے چکے ہیں۔ اس کے بعد کابینہ ڈرگ پرائسنگ کمیٹی نے بھی 24 جولائی کو ان ادویات کی قیمتوں سے متعلق منظوری دی تھی۔
کابینہ کی پرائسنگ کمیٹی اور ڈریپ کی جانب سے نئی ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمتوں کا تعین بھی کیا جاچکا ہے۔ تاہم ان قیمتوں کے حتمی نفاذ کے لیے مزید سرکاری کارروائی مکمل ہونا باقی ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر کابینہ کی جانب سے حتمی منظوری مل جاتی ہے تو ڈریپ نئی ادویات کی قیمتوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ اس کے بعد متعلقہ ادویات مقررہ قیمتوں کے تحت مارکیٹ میں دستیاب ہوسکیں گی۔
ادویات کی قیمت مقرر کرنے کا عمل مریضوں اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں دونوں کے لیے اہم ہوتا ہے۔ ایک طرف مریضوں کو ضروری ادویات مناسب اور واضح قیمت پر دستیاب کروانا ضروری ہے۔ دوسری جانب حکومت کو ادویات کی تیاری اور درآمد کی لاگت کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
ہارڈ شپ کیسز بھی اسی معاملے کا اہم حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق مختلف بیماریوں کی تقریباً 100 ادویات کے ہارڈ شپ کیسز زیر التوا ہیں۔ ان کیسز میں عام طور پر ایسی ادویات شامل ہوتی ہیں جن کی قیمتوں کے حوالے سے خصوصی حالات یا مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
حکومت کی جانب سے 52 نئی ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کی پیش رفت سے ان مریضوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے جنہیں ان ادویات کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر کینسر، ہیموفیلیا اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے نئی ادویات کی بروقت دستیابی اہم ہے۔
اب وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والی متوقع ملاقات میں اس معاملے پر مزید پیش رفت کا امکان ہے۔ اگر متعلقہ حکام کو حتمی منظوری مل جاتی ہے تو رواں ماہ نئی ادویات کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہوسکتا ہے۔
فی الحال 52 نئی ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمتوں کا تعین کیا جاچکا ہے، جبکہ حتمی سرکاری کارروائی باقی ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد ڈریپ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی نئی قیمتیں باضابطہ طور پر نافذ ہوں گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









