جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

بلوچ طلباکیس، پوری ریاست کو مجرم تصور کرنا درست نہیں، نگراں وزیراعظم

28 فروری, 2024 11:36

 

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ لاپتہ بلوچ طلبہ کیس میں طلب کیے جانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہو ئے۔

نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے عدالت میں کہا کہ میں کل ٹی ٹی پی جوائن کر کے مارا جاتا ہوں تو گھر والے بھی روئے دھوئیں گے، فیصلہ ایک شخص کرتا ہے نتائج دوسروں کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

نگراں وزیراعظم نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے 90ہزار شہادتیں ہوئیں؟ 90لوگوں کو سزا نہیں ہوئی،مجھ سے صحافی نے پوچھا آپ بلوچستان واپس کیسے جائیں گے؟

انھو ںنے کہا کہ اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیںمیں صرف لاپتہ افراد سے متعلق وضاحت کر رہا ہوں، یہ لاپتہ افراد کا پوچھیں تو 5ہزار نام دے دیتے ہیں، یہ خود بھی اس مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتے،ان کی وجہ سے پوری ریاست کو مجرم تصور کرنا درست نہیں۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا،یہ ایگزیکٹو کا اختیار ہے انہیں ہی کرنے دیں۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ میں کچھ باتوں کی یہاں پر کلیئر ٹی دوں گا ،میں بلوچستان سے ہوں ،ہم بلوچستان میں آرمڈ ایجنسی کا سامنا کر رہے ہیں،یہ کہتے ہیں اسٹوڈنٹس کی لسانی بنیادوں پر پروفائلنگ نہ کریں، سسٹم میں کمی اور خامیاں ہیں، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے دوران سماعت کہا کہ سماعتوں کے بعد پتہ چلا 9 بندے سی ٹی ڈی کے پاس ہیں، جس پر وزیراعظم نے کہا کہ وہ پوچھتے ہیں آپ جسٹس محسن اختر کیانی ہیں آپ لاپتہ ہو گئے۔

جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ مجھے بتا رہے ہیں کہ میں نے جبری لاپتہ ہو جانا ہے؟ جس پر وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ میں مثال دے رہا ہوں، میں انوار کا نام لے لیتا ہوں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ریاست کوکام بھی کرنا ہے جواب دہ بھی ہونا ہے،کیس یہ چلا تو کچھ لوگ گھر پہنچے ، ایجنسی نے بندے بازیاب کرائے،جوزیراعظم صاحب آپ بھی قانون کو جوابدہ ہیں۔

وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کا کہ جی ٹھیک ہے، ہم قانون کے مطابق کارروائی کریں گے، جس ہر جج نے کہا کہ بہت شکریہ، آپ جا سکتے ہیں۔

واضح رہے اسلام آباد  ہائیکورٹ نے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو طلب کر رکھا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی بلوچ لاپتہ طلبا کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

منصور عثمان اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ لاپتہ بلوچ طلبہ کی بازیابی کے لیے کوششیں کی گئیں، 11 مزید لاپتہ بلوچ طلبا کو بازیاب کرایا گیا، 9 افراد سی ٹی ڈی کی تحویل میں ہیں، 4 تاحال ٹریس نہیں ہو سکے۔

اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان نے بتایا کہ دو افراد افغانستان میں ہیں، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا جو قانونی عمل میں آگئے وہ اس کورٹ کے مینڈیٹ سے نکل گئے، ان کےخلاف کیس ہیں تو وہ متعلقہ عدالتیں دیکھیں گی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم کو پہلے بھی طلب کیا تھا تاہم وزیراعظم عدالت پیش نہیں ہوئے تھے جس پر عدالت نے دوبارہ انوار الحق کاکڑ کی طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا۔

یہ پڑھیں : بلوچ طلبا بازیابی کیس؛ وزیراعظم پیش نہ ہوئے، عدالت نے پھر طلب کرلیا

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔