جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

خفیہ دستاویز کو پبلک کرنے کا مطلب قومی سلامتی داؤ پرلگانا ہے ،بلاول بھٹو

04 مارچ, 2024 12:28

 

اسلام آباد:بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتاہوں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتاہوں،محمود اچکزئی صدارتی امیدوار ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کو ووٹ صرف اس لیے نہیں ملے کہ یہاں آکر گالیاں دیں،عوام نے ووٹ صرف اس لیے دیا کہ معاشی بحران سے بچایا جائے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ،آمدنی میں اضافہ نہیں ہورہا،وزیر اعظم جو پالیسی لائیں گے اس میں ان پٹ دیں ،ہم سب آپ کو دعوت د ے رہے ہیں کہ آئیں عوام کو مشکل سے نکالیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ عمر ایوب کو اپنے منشور کااتنا پتا نہیں ہوگا جتنا مجھے پتا ہے،اٹھارویں ترمیم کے مطابق جو وزارتیں صوبوں کو منتقل ہونی تھیں نہیں ہوئیں۔

پی پی چئیرمین نے کہا کہ چھاپے سے صدارتی الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ، شہباز شریف اور سرفراز بگٹی اس چھاپے پر ایکشن لیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اپنے خاندان کی تیسری نسل کا نمائندہ ہوں جو منتخب ہواہوں،پارلیمنٹ کا سنگ بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نےرکھا تھا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جمہوری ادارے کو طاقتور بنائیں گے توعوام کو طاقتوربنائیں گے،یہ ایوان ہم سب کا ہے،بزرگوں سے اپیل کرتا ہوں ایسے فیصلے لیں جس سے ادارے مضبوط ہوں،ایسے فیصلے لیں جس سے نوجوانوں کا مستقبل روشن ہو۔

انھوں نے مزید کہا کہ کل اپوزیشن کی تقریر پی ٹی وی پرنہیں دیکھا ئی گئی ،کل دونوں صاحبان کی تقریر کے دوران احتجاج ہورہا تھا،وزیر اعظم نے ملک کےبحران پربات کی ،عوام چاہتے ہیں ملک کو اور انہیں بحران سے نکالا جائے،عوام ہم سب کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے ایوان میں کہا کہ اس ایوان میں کسی ایک جماعت کے پاس مینڈیٹ نہیں ہے، عوام نےایسا مینڈیٹ دیا کہ تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنے ہوں گے، عوام نے الیکشن مین بتایا کہ وہ ہماری آپس کی لڑائی سے تنگ آگئے ہیں، اب ہمیں آپس میں بات کرنی ہوگی، عوام نے ہمیں گالیاں دینے نہیں بلکہ مسائل کے حل کے لیے ووٹ دیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر آپ شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں مانتے تو ان کی پالیسی پر آپ تنقید نہیں کرسکتے ہیں، وزیراعظم نے جو نکات کل اٹھائے ان پر عمل کرکے بحران سےنکل سکتے ہیں، ہم آپ کو دعوت دے رہے ہیں کہ پاکستان اور عوام کو معاشی مشکل سے نکالیں۔

سابق وزیر خارجہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں عدالتی اور الیکشن سے متعلق اصلاحات کرنے ہوں گے، عدالتی، الیکشن ریفارمز پر اپوزیشن بھی ہمارا ساتھ دے، اگر ہم نے مل کر یہ اصلاحات کرلیں گے تو کوئی جمہوریت کو کمزور نہیں کرسکتا، ہم چاہتے ہیں کہ ایسا الیکشن ہو جہاں وزیراعظم کے مینڈیٹ پر کوئی شکوک نہ ہو، ہم چاہتے ہیں شہباز شریف جیتیں یا قیدی نمبر 804 الیکشن جیتے لیکن کوئی انگلی نہ اٹھاسکے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ میں ملک کا وزیرخارجہ ہوں، جانتا ہوں سائفر کیا ہوتا ہے، اس سائفر کی ہر کاپی کاؤنٹ ہوتی ہے صرف ایک کاپی ہم گن نہیں سکے وہ وزیر اعظم کے آفس میں تھی، خان صاحب نے خود مانا کہ انہوں نے ایک خفیہ دستاویز کھو دیا ہے، یہ جلسے میں ایسے لہرانے کی بات نہیں تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ آڈیو لیک کی بھی بات نہیں ہے، میرے نزدیک مسئلہ یہاں شروع ہوتا کہ جب خان صاحب کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اگلے دن گرفتاری کے بعد وہ سائفر ایک غیر ملکی جریدے میں چھپ جاتا ہے تو اگر آپ عوام کو بے وقوف سجھتے ہیں تو آپ غلط ہیں، ہم جانتے ہیں کہ جان بوجھ کے کسی نے اس سائفر کو سیاست کے لیے انٹرنیشنل جریدے میں چھپوایا تاکہ کیسز کو متنازع بنایا جائے، جب آپ خفیہ دستاویز کو پبلک کرتے ہیں تو قومی سلامتی داؤ پر لگتی ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر کوئی آئین کی خلاف وزری کرتا ہے تو اس کے سزا دلوانی چاہیے، اگر یہ ہم سے جمہوریت کی بات کریں گے تو میں کہوں گا کہ آپ ہوتے کون ہیں یہ بات کرنے والے، میں اس شخص کا نواسا ہوں جس نے تختہ دار پر ہوتے ہوئے بھی اصولوں کا سودا نہیں کیا۔

سابق وزیر خارجہ نے کہاکہ یہ جو لوگ یہاں احتجاج کر رہے ہیں، جن کو 6 مہینے سے جمہوریت یاد آرہی ہے تو اگر انہیں لیکچر دینا ہے تو ایک دوسرے کو دیں ہمیں نا دیں، یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب پر جھوٹا الزام لگائیں اور ہم جواب نا دیں، لیکن ہم ان کے جھوٹ کاپردہ فاش کروں گا۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ میں اس قسم کی حرکتوں سے خود مایوس نہیں ہوتا مگر پاکستانی عوام اس قسم کی حرکتوں کو پسند نہیں کرتے، اگر یہ کوئی غیر جمہوری کام کریں گے تو میں ان کے خلاف کھڑا ہوجاؤں گا، یہ ہمارا فرض ہے کہ سب سے پہلے اپنا فرض ادا کریں نا کہ دوسروں پر تنقید شروع کردیں۔

واضح رہے جب بلاول بھٹو نے سائفر معاملے پر بات کی تو اپوزیشن ارکان نے شدید نعرے بازی شروع کردی ، جس کے بعد پی پی پی کے اراکین اسمبلی بلاول بھٹو کے گرد جمع ہوگئے ۔

 

یہ پڑھیں : صدر عارف علوی پر آئین توڑنے پر دو مقدمات ہوں گے، بلاول بھٹو

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔