ہفتہ، 1-اگست،2026
ہفتہ 1448/02/18هـ (01-08-2026م)

مسلم ممالک مزاحمتی قوتوں بالخصوص حزب اللہ اور حماس کو اپنائیں

21 اکتوبر, 2024 16:07

امریکی صدر جو بائیڈن اورنائب صدر کملا ہیرس دیوی نے حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی المناک شہادت کے بعد جس روعمل کا اظہار کیا وہ انسانی شرافت اور اقدار کے منافی تھا۔

یہ درست ہے کہ اسرائیل خطے میں امریکی مفادات کا محافظ ملک ہے ، اسرائیل وہ ملک ہے جسے اقوام متحدہ کے ذریعے استعماری قوتوں نےعرب علاقوں میں تیل کی دریافت کے بعد تیل سے مربوط معاشی اور سیاسی فوائد کو مغرب کی جھولی میں رکھنے کیلئے بنایا تھا ،اسرائیل عرب ملکوں میں گھرا ہوا ملک ہے، جسکا دفاع مغربی بیساکھیوں پر ٹکا ہوا ہے بصورت دیگر اسرائیل کا وجود میں رہنا عملی اور عقلی طور پر حقیقت کے خلاف ہے ، دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے چاپان پر ایٹم بم برسائے تو عالمی سطح طاقت کا توازن امریکہ کی جانب جھکنے لگا، امریکیوں نے اسی عرصے میں برطانیہ کی مدد سے برسراقتدار آنے والے آل سعود کو تیل کی قیمت ڈالر سے منسلک کرنے کیلئے آمادہ کرلیا تھا، آل سعود کیساتھ لڑاکا قبائل علمی اور سیاسی بصیرت میں پسماندہ تھے ،انکی آنکھیں دولت کی چمک دمک نے خیرہ کردیں تھیں ، آل سعود اور حامی عرب قبائل ترک خلافت کو ختم کرکے برسراقتدار آئے تھے اور جس جغرافیائی حدود میں اسرائیل کو قائم کیا جانا تھا وہ ترک خلافت کے زیر نگین تھاجبکہ ترک لوگوں نے قوم پرستی کی سیاست میں اپنی نجات تلاش کررہے تھے اسی تعصب نے ترک لوگوں کو عربی زبان اور عرب سیاست سے دور کردیا اُس دور کی سیاست کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت ختم ہوچکی تھی، برطانیہ کی جانب سے مسلم اکثریتی علاقوں کی سرزمین طاقتور اور فرماں برادر عرب قبائل میں تقسیم ہورہی تھی اور نئے نئے ملک وجود میں آرہے تھے، ایسے حالات میں امریکہ کے مفاد میں تھا ایک غیر فطری ریاست کو عربوں کے سر پر مسلط کردیا جائے اور پھر یہی ہوا ، اسرائیل کی سلامتی خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے لازم و ملزوم ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ ہر سطح پر اسرائیل کیساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔
ایک سال سے زائد جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران امریکہ کی فوجی اور سیاسی مدد کو نکال دیں تو تل ابیب کا تصور مٹتا ہوا دکھائی دیگا، فلسطینیوں بچوں اور عورتوں کا قتل عام ،غزہ اور لبنان میں عمارتوں اوربنیادی ڈھانچے کی تباہی یوں ہی نہیں ، یہ امریکہ کا مذموم منصوبہ ہے جسے اسرائیل عملی جامہ پہنا رہا ہے، امریکہ کو روس اور چین سے خوفذدہ ہے، اِن دونوں ملکوں نے 2018ء کے بعد مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیاء کے ملکوں پر توجہ مرکوز کی ہے جو چین کی حد تک فی الوقت اقتصادی روابط بڑھانے تک محدود ہے جبکہ روس کی معاشی اور سیاسی دونوں حوالوں سے دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے یہی وہ بات ہے جوامریکہ کو پریشان کررہی ہے، غزہ اور لبنان میں اسرائیل کے جنگی طریقہ کار کا نوٹس لیا جائے تو نسل کشی اور جنگی جرائم کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا اور اس سے جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہی ہے کہ امریکہ خوف پیدا کرکے خطے میں روس اور چین کی رسائی روکنا چاہتا ہے، ماضی میں چاپان پر ایٹم بم گراکے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے خوف کے ذریعے عالمی سیاست کو اپنے کنٹرول میں کیا اور مغربی یورپ کے ملکوں کو کمیونسٹ انقلاب کا خوف دلاکر نیٹو جیسے اتحاد قائم کروائے بلکل ایسی طرح اسرائیل کے ذریعے خوف پیدا کرکے امریکہ خطے کی دولت کو اپنے قبضے میں رکھنے کی کوشش کررہا ہے ۔
اگر امریکہ جنگ بندی کرانے میں مخلص ہوتا تو غزہ اور لبنان کی جنگ ایک سال طول نہ کھنچتی جنگ بندی ہوچکی ہوتی، یہ یاد رکھا جائے کہ اسرائیل معاشی طور پر تباہی کی جانب رواں دوان ہے، اسکے شہری ترک وطن کررہے ہیں، سرمایہ نکالا جارہا ہے، جنگ کی وجہ سے اسرائیل کو شدید معاشی سست روی کا سامنا ہے، لازمی فوجی ڈیوٹیز کی وجہ سے کارکنوں کی قلت نے ہزاروں کارروبار ی افراد کو چھوٹے کاروبار بند کرنے پر مجبور کردیا ہے، اسرائیل کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 46,000 کاروبار خاص طور پر چھوٹے کارروباری ادارے بند ہو چکے ہیں، سیاحت کی صنعت تباہ ہوچکی ہے ، یروشلم کے بڑے ہوٹلوں نے کارکنوں کو نوکریوں سے فارغ کر دیا ہے کیونکہ جنگ نے سیاحت کو 86 فیصد سُکیڑْ دیا ہے، جنگ کے اخراجات قومی بجٹ کے خسارے میں اضافے کا باعث بنے ہیں، جس نے عدم استحکام کے ساتھ مل کر اسرائیل کے اقتصادی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے، اسرائیلی ماہرین معیشت اقتصادی استحکام کیلئے جنگ بند کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، دوسری طرف اسرائیل کو غذائی قلت کے بحران پیدا ہونے کے امکان کا سامنا ہے، اسرائیل کی مقامی زراعت کا کمزور پہلو افرادی قوت کی کمی ہے مقبوضہ علاقوں کے فلسطینی زراعت سے وابستہ ہیں جن کے پرمٹ جنگ کی وجہ سے منسوخ کردیئے گئے ہیں، مقامی سطح پر زراعت اور زرعی پیداوار اسرائیل کی ضرورتوں سے کم ہے ، جسکی وجہ سے خوراک کی درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے جوطویل مدتی غذائی تحفظ کو کمزور کرتاہے، اسرائیل کےغذائی ذخائر ممکنہ طور پر چند مہینوں تک برقرار رہ سکتے ہیں لیکن جنگی صورت حال اور زرعی شعبہ کی جلد بحالی کو ناممکن بنارہی ہے لہذادرآمدات کے ذریعے ہی غذائی بحران کو روکنا ہوگا،جنگ نے اسرائیل کے غذائی نظام میں گہری کمزوریوں کو بے نقاب کردیاہے، غاصب اسرائیل جو فلسطینیوں کو غذاء اور پانی فراہم کرنے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے وہ خود غذائی بحران میں مبتلا ہونے جارہا ہے ، اسرائیل کی اہم بندرگاہوں میں حیفہ سرفہرست ہے اس کے علاوہ اشدود کی بندرگا ہ ہے جو تل ابیب کے قریب ہے ، ایلات کی بندرگاہ اور ایک جھوٹی بندرگاہ حدیرہ ہے، حیفہ اور اشدود پورٹس پر حزب اللہ کے مسلسل حملوں کی زد میں ہیں ، حیفہ بندرگاہ پر درآمدی اور برآمدی سرگرمیاں بڑی حد تک ختم ہوچکی ہیں، ایلات بندرگاہ بحیرہ احمر میں یمن کے حملوں اور خود اس پورٹ پر یمن کے میزائل حملے اس کی کارکردگی کو متاثر کررہے ہیں، اسرائیل کا معاشی اور غذائی بحران بڑھے گا تو اسرائیلی شہری امریکی مفادات کیلئے لڑی جانے والی جنگ کے خلاف صف آراء ہوجائیں گے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک اسرائیل کے خلاف بنرد آزما مزاحمتی قوتوں کی مدد کریں حماس اور حزب اللہ کو اپنائیں اور اِن کی مالی اور عسکری مدد کریں ، یقین رکھیں مذاحمتی قوتوں کے ردعمل کو تقویت پہنچائی گئی تو اسرائیل 2025ء میں دنیا کے نقشے میں موجود نہیں ہوگا۔

نوٹ: جی ٹی وی نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔