صوبہ پنجاب اسِموگ سے پاک کیسے ہو؟

صوبہ پنجاب اسِموگ سے پاک کیسے ہو؟
تحریر: تاثیر علی
صوبہ پنجاب میں ماہِ سرما کے دوران اسموگ کی وجہ سے سا لہا سال سے روزِ مرہ زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین ہر آنیوالے سال میں ریکارڈ آلودگی اور بالاآخر اسِموگ کی شدت میں نئے اضافے ریکارڈ کر رہے ہیں۔
دُھند اوراِسموگ میں کیا فرق ہے:
دُھند عموماً بارش کے بعد زمین کے قریب بننے والے بادل کی طرح سامنے آتی ہے ایسا تب ہوتا ہے جب ہوا میں پانی کے بخارات بہت زیادہ ہوں، جبکہ اِسموگ انتہائی شدید فضائی آلودگی کی ایک مہلک قسم ہے جو دھوئیں، دُھند، دھُول اور دیگر ماحولیاتی آلودگیوں سے پیدا ہوتی ہے۔
جدید صنعتی دور میں اِسموگ کس طرح سے پیدا ہورہی ہے:
موجودہ صنعتی دور میں اِسموگ نقصان دہ آلود گیوں کا ایک پیچیدہ مکِسچر یا کاک ٹیل ہے، اِسموگ میں پارٹیکیولیٹ میٹرز( پولن، دھول، مٹی، کاربن ، دھواں)، گرائونڈ لیول اوزون ،کاربن مونوآکسائیڈ، نائیٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور غیر مستحکم نامایاتی مُرکبات شامل ہیں۔
ان تمام کیمائی اجزا و گیسوں کا بڑا ماخَذ غیر معیاری ایندھن (پیٹرول، ڈیزل)، کیمیکلز کا صنعتی استعمال، جنریٹرز و پاور پلانٹ اور بڑی تعداد میں گاڑیوں (کار، ٹرک، موٹرسائیکل) کا استعمال ہے۔
پنجاب میں اِسموگ کے بنیادی عناصرکیا ہیں:
پنجاب اربن یونٹ 2023 کے مطابق اِسموگ پیدا کرنے میں ٹرانسپورٹ کا حصہ 83.15 فیصد، صنعت 9.07 فیصد ، توانائی 3.9 فیصد، زرعی فضلہ وکچرا جلانا 3.6 فیصد ، کاروباری 0.14 فیصد اور گھروں کا 0.11 فیصد ہے۔

باغات کے شہر لاہور کےپچھلے 6 سال میں صرف 28 اچھے دن:
ائیر کوالٹی انڈیکس کے مطابق جنوری 2019 سے اگست 2024 تک کُل 2070 دنوں میں شہریوں نے صرف 28 دن اچھی و صحت بخش ہوا میں سانس لی، 153 دن تسلی بخش، 564 دن درمیانی جبکہ 602 دن لاہوریوں نے انتہائی مضرِصحت اور خطرناک ہوا میں سانس لیا۔

چاہے ماضی میں لاہور کا سبزہ کوئی معنی رکھتا ہولیکن فی الحال شہر کے کل رقبے کا محض 1 فیصد ہی درختوں پر مشتمل ہے، جبکہ نئی دلی اور بیجنگ کے کل رقبے میں درختوں کا تناسب بالترتیب 23.6 فیصد اور 44.9 فیصد ہے، درختوں میں تیزی سے اضافہ کرنا آلودگی اور بالآخر اسِموگ کے خاتمے کے لئے بہت ضروری ہے۔
اسِموگ دمے کے مریضوں کے لئے سنگین خطرہ:
اسِموگ سے سانس کی بیماریاں (دمہ، کھانسی، اور برونکائیلائٹس)، قلبی بیماری، اعصابی عوارض، کینسر، بچوں کی صحت، پیدائش کا کم وزن، اور دیگر مسائل جیسے آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواریاں عام ہیں ،جبکہ بزرگوں اور بچوں کی زندگیوں کو واضح خطرات ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق آلودگی سے سالانہ 6.5 کروڑ افراد انتقال کرجاتے ہیں۔

اسِموگ میں انفرادی طور پر کمی کیسے لائیں:
کسی بھی قسم کی چیز نا جلائیں جیسے لکڑی ، پلاسٹک ، کچرہ، کاغذ وغیرہ
غیر ضروری سفر ترک دیں، گھر سے کم سے کم باہر نکلیں
ماسک کا استعمال کریں ، موٹرسائیکل وموٹر کار کا استعمال محدود کریں
کھڑکی و دروازے بند رکھیں ، آنکھوں کو وقتا فوقتا دھوتے رہیں
پانی وافر مقدار میں پیتے رہیں
حکومتِ پنجاب کا اِسموگ سے پاک پنجاب کا وعدہ:
حکومتِ پنجاب نے الیکٹرِک موٹرسائیکلز ،شمسی بجلی کے منصوبوں، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے ،جنگلات کے فروغ، زرعی فضلے کونکالنے کی مشینری وغیرہ کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہے
لیکن 13 کروڑ افراد پر مشتمل پنجاب کی سب سے اہم ضرورت صوبے بھر میں سَستی، پائیدار، قابلِ بھروسہ اور بڑے پیمانےپر قابلِ دسترس پبلک ٹرانسپورٹ سِسٹم کی ناگزیرضرورت ہے جوماہرینِ ماحولیات کے مطابق اب تک اہلِ اقتدار کی پالیسی میں درستگی سے شامل نہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












