اتوار، 29-مارچ،2026
ہفتہ 1447/10/09هـ (28-03-2026م)

شامی حکومت کو فلسطین، لبنان کی مدد کرنے پر سزا دی جا رہی ہے

03 دسمبر, 2024 14:29

حالیہ خلفشار سے پہلے شام کے ساٹھ فیصد علاقے پر شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا کنٹرول تھا، جس میں وسطی شام کے علاوہ جنوب اور مغرب کے علاقے شامل تھے۔

ان میں دمشق، حمص، حما، اور لاذقیہ جیسے اہم شہر شامل ہیں، جو حکومت کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی شام کا ساحلی علاقہ بھی بشار الاسد حکومت کے کنٹرول میں ہے جو اس کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

شمال مشرقی شام کا تقریباً 30 فیصد علاقہ شامی ڈیموکریٹک فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ یہ علاقہ زیادہ تر دریائے فرات کے مشرق میں واقع ہے اور یہاں کرد اکثریتی علاقے شامل ہیں۔ایس ڈی ایف اتحاد کو ترک مخالف کُرد گروپ ‘وائے پی جی’ لیڈ کر رہا ہے، اس علاقے میں تیل کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں اور یہ علاقہ عملا امریکہ کے کنٹرول میں ہے، ایس ڈی ایف کے کنٹرول میں شامل اہم علاقوں میں رقہ، حسکہ، دیر الزور اور منبج شامل ہیں۔

شمالی اور شمال مغربی شام کا باقی تقریباً 10 فیصد علاقہ شامی نیشنل آرمی کے کنٹرول میں ہے، یہ علاقہ ترکیہ کی سرحد کے قریب ہے۔ ایس این اے کو ترکیہ کی حمایت حاصل ہے جس کے کنٹرول میں شامل اہم علاقوں میں عفرین، جرابلس، الباب، تل ابیض اور راس العین شامل ہیں۔

روس، ایران اور ترکیہ کے درمیان آستانہ امن مذاکرات کے ذریعے ہونے والی پیش رفت کے تحت سنہ 2020 سے شام میں دہشت گردی کے واقعات تقریبا ختم ہو گئے تھے، بشارالاسد حکومت اور دیگر گروپ نے اوپر بیان کیے گئے مختلف علاقوں میں اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا تھا اور ایک دوسرے پر حملوں سے گریز کر رہے تھے۔

شام میں حالیہ جنگ کیسے شروع ہوئی؟

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے چند گھنٹے بعد ہی شام کے شہر ادلب میں موجود گروپ حیات تحریرالشام نے بشار الاسد مخالف دیگر گروپوں کے ساتھ ادلب سے صوبہ حلب کی طرف پیش قدمی شروع کردی، اس حملےمیں ترک حمایت یافتہ سیرین نیشنل آرمی کے دستوں سمیت متعدد باغی گروپ شامل تھے۔

حیران کن طور ایچ ٹی ایس اور اس کے اتحادیوں نے چار دن میں حلب کے متعدد علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا، شامی فوج نے کہا ہے حملے میں اس کے متعدد فوجی ہلاک ہوئے اور اس نے حلب سے ٹیکٹیکل عقب نشینی کی ہے، شامی فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک بڑےآپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کو جلد حلب سے نکال باہر کرے گی، روس نے ایچ ٹی ایس کے پیش قدمی کرتے ہوئے جنگجووں پر بمباری کی، جس میں بڑی تعداد میں ملیٹنٹس کے ہلاک ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

گو اس وقت حلب ایچ ٹی ایس کے کنٹرول میں ہے، لیکن کیا وہ اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے گی، اس کا امکان کم ہے، کیونکہ ایران نے عراقی گروپ حشدالشعبی سمیت مختلف گروپوں کو شام روانہ کیا ہے، جو حلب اور حما میں باغیوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں جب کہ روس نے فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔

 حیات تحریر الشام کیا ہے؟

تحریر الشام سلفی جہادی تنظیم ہے، جس کا پرانا نام النصرہ فرنٹ ہے، اس کی 2012 میں القائدہ کی ایک شاخ کے طور پر سیریا میں بنیاد رکھی گئی، اس کو ابو محمد ال جولانی لیڈ کر رہا ہے، جو کہ ایک شامی کرد اور سابق فوجی ہے۔

شامی شہر ادلب تحریرلشام کا مرکز ہے جب کہ جولانی مبینہ طور پر حلب حملے کے بعد ہونے والے روس کے فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

ایچ ٹی ایس اتحاد نےحلب میں کیسے تیزی سے پیش قدمی کی؟

تحریر الشام کی حلب کی طرف تیزی سے پیش قدمی کی وجہ لبنان کی صورت حال ہے، حالیہ حزب اللہ اسرائیل جنگ کے باعث ادلب کے جنوبی حصے میں حزب اللہ کی آپریشنل توجہ میں کمی ہوئی۔ دوسری طرف روسی فوج یوکرین جنگ میں مصروف ہے، لطاکیہ کے جنوب مشرق میں روس کی حمیم بیس موجود ہے، یوکرین جنگ کی وجہ سے روس کو بہت سی فوجی تنصیبات کو خالی کرنا پڑا، روس ادلب-حلب کے قریب کچھ فوجی علاقوں سے انخلاء پر مجبور ہوا، اس صورت حال سے بشار الاسد مخالف ملیٹنٹ گروپوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے ادلب سے حلب کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔

اس وقت شام کا محاذ دوبارہ کھولنے کی اصل وجہ کیا ہے؟

اس وقت شام میں جنگ شروع کرنے کا مقصد ایران کی شام تک رسائی ختم کرنا ہے، اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران حزب اللہ تک شام کے راستے فوجی امداد نہ پہنچا سکے، اور یوں حزب اللہ دوبارہ منظم و مضبوط نہ ہو سکے۔

یروشلم انسٹیوٹ آف اسٹراٹیجی و سکیورٹی کے سینئر فلو، اسرائیلی فوج کے ریزوو کرنل اور روسی امور کے ماہر ڈینیل ریکوف نے کہا ہے شمالی شام پر باغیوں کا حملہ اسرائیل کے لیے اچھی خبر ہے، باغیوں نے ایران اور حزب اللہ کے فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کیا ہے، جس سے حزب اللہ کو بحال ہونے میں مشکل ہو گی۔

حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حزب اللہ کی مدد کرنے کی وجہ سے شام کے صدر بشارالاسد کو متعدد مرتبہ سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی۔

اسرائیل کے خلاف جاری مزاحمت میں شام دل کا کردار ادا کرتا ہے، جس کے ذریعے ایران سے آنے والی مالی و فوجی امداد مختلف مزاحمتی گروپوں تک پہنچتی ہے۔ اس وجہ سے شامی صدر بشار الاسد کو سزا دینے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت تکفیری دہشت گردوں کو متحرک کیا گیا۔

تکفیری دہشت گرد اگر شام میں جاری قتل وغارت کو جہاد قرار دیتے ہیں تو ان سے سوال ہے کہ پچھلے 14 ماہ سے اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، تکفیری دہشت گردوں نے اسرائیل کے خلاف جہاد کیوں نہیں کیا؟

یہ بھی پڑھیں حزب اللہ کیساتھ اسرائیل کا جنگ بندی معاہدہ سے غزہ میں امن کی اُمیدیں بڑھ گئیں

حالیہ جنگ میں ترکیہ کا کیا کردار ہے؟

ترکیہ نے آستانہ و سوچی پیس پروسز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بشار الاسد حکومت کے خلاف کاعروائی میں مدد کی ہے، ترک حمایت یافتہ شامی نیشنل آرمی بھی ایچ ٹی ایس کے ساتھ حلب پر حملے میں شامل ہے، ترکیہ نے مبینہ طور پر اپنی سرحدیں کھول کر مختلف دہشت گرد گروپوں کو شام داخل ہونے کا راستہ دے کر شام میں خونریزی کے لیے میدان بھی فراہم کیا۔

ایران اور ترک وزراء خارجہ کی آج انقرہ میں ہونے والی ملاقات میں ترکیہ نے اسد حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نام نہاد اپوزیشن گروپوں کےساتھ مذاکرات کرکے شام میں امن قائم کرے، ترکیہ نے حزب اللہ و دیگر ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کی شام میں مداخلت کی بھی مخالفت کی۔

ایران اور روس کا کیا موقف ہے؟

ایران اور روس نے شامی صدر بشارالاسد کی بھرپور مدد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف شام کی بھرپور مدد کی جائے۔ آخری خبریں آنے تک ایران نے مختلف جنگجو گروپوں کو شام روانہ کیا ہے، جبکہ روس نے باغیوں پر فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دمشق میں شام کے صدر بشارالاسد سے بھی ملاقات میں ایران کی مکمل حمایت کا یقین دلایا، وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انقرہ میں ترک ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں متحرک دہشت گردوں کا اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی رابطہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے سپورٹرز شام کے شمال میں متحرک ہیں، جس سے شام کے امن و استحکام کو خطرہ ہے جب کہ ایران و ترکیہ سمیت خطے کے تمام ممالک متاثر ہوں گے، شام میں دہشت گردوں کے حالیہ حملوں کا مقصد غزہ اور لبنان میں اسرائیلی مظالم سے توجہ ہٹانا ہے، خطے میں تناو میں اضافہ کرنے کی صیہونی کوششوں سے ایران بخوبی واقف ہے۔

شام روس اور ایران دونوں کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل انتہائی اہم ملک ہے، دونوں ملک کسی بھی صورت بشار الاسد کی حکومت کو گرنے نہیں دیں گے، کیونکہ بشار الاسد حکومت کے گرنے سے روس کا مشرق وسطی میں اثر و رسوخ کم ہو جائے گا، جبکہ اسرائیل کے خلاف جاری مزاحمتی محاذ کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروپوں کا زمینی جنگ جبکہ روس کے فضائی حملے اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے اور روس و ایران بشارالاسد حکومت کو بچانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

نوٹ: جی ٹی وی نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔