ترک وزیر توانائی کا قطر-ترکیہ گیس پائپ لائن دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ

ترک وزیر توانائی نے قطر-ترکیہ گیس پائپ لائن دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیدیا
ترکیہ اور قطر نے شام میں ‘رجیم چینج آپریشن’ میں کلیدی کردارادا کیا، بشار حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے انٹیلی جنس چیفس نے شام کا دورہ بھی کیا اور تحریرالشام کے سربراہ ابو محمد جولانی سے ملاقات کی۔
قطر اور ترکیہ کے شام میں سیاسی ایجنڈے کے ساتھ اقتصادی مفادات وابستہ ہیں، جس کی وجہ سے وہ شام میں بشار حکومت کا خاتمہ چاہتے تھے۔ ان میں قطر ترکیہ گیس پائپ لائن سرفہرست ہے، بشار حکومت کے خاتمے کے بعد ترکیہ کے وزیر توانائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قطر ترکیہ گیس پائپ لائن کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
قطر- ترکیہ گیس پائپ لائن منصوبہ ایک اہم جغرافیائی، سیاسی اور معاشی پس منظر رکھتا ہے، جس کے زریعے قطر سے سعودی عرب اردن اور شام کے زریعے ترکیہ تک گیس پائپ لائن پچھائی جانی تھی، جہاں سے اس پائپ لائن کو یورپ تک پہنچنا تھا۔
منصوبے کا پس منظر
قطر، دنیا میں قدرتی گیس کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کی گیس کے بڑے ذخائر شمالی گنبد میں موجود ہیں، جو ایران کے جنوبی پارس فیلڈ کے ساتھ مشترکہ ہیں۔ قطر کی کوشش رہی ہے کہ اپنی گیس کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے ایسے راستے تلاش کرے جو زیادہ اقتصادی اور سیاسی طور پر مستحکم ہوں۔
قطر، شام اور ترکیہ کا کردار
قطر اور ترکیہ نے شام کے سابق صدر بشار الاسد کو 2009 میں اس منصوبے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ منصوبہ قطر کی گیس کو سعودی عرب، اردن، اور شام کے ذریعے ترکی تک پہنچانے اور وہاں سے یورپ کو فراہم کرنے کا تھا۔
شام کا جغرافیائی محل وقوع اس منصوبے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ قطر سے ترکی تک گیس لے جانے کے لیے سب سے مختصر اور ممکنہ راستہ فراہم کرتا ہے۔ لیکن شام اور قطر کا زمینی رابطہ نہیں؛ گیس پائپ لائن کے لیے سعودی عرب اور اردن کی زمینوں سے گزرنا لازمی تھا، اور ان دونوں ممالک کے ساتھ شام کے تعلقات بہتر تھے۔
شام کی مخالفت
بشار الاسد نے اس منصوبے کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی بنیادی وجہ روس کے ساتھ شام کے گہرے تعلقات تھے۔ روس شام کا ایک اہم اتحادی ہے اور یورپ کو توانائی فراہم کرنے میں اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ روس کو خدشہ تھا کہ قطر کی گیس یورپ میں اس کی گیس کی جگہ لے سکتی ہے، جو روس کے لیے ایک بڑی اقتصادی اور سیاسی دھچکا ہوتا۔
روس پر ممکنہ اثرات
یہ گیس پائپ لائن اگر مکمل ہوتی تو یورپ میں روس کی توانائی کی اجارہ داری کو شدید نقصان پہنچتا۔ روس-یوکرین جنگ سے پہلے یورپ اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 40 فیصد روس سے درآمد کرتا تھا، اور قطر کی گیس اس انحصار کو کم کر سکتی تھی۔
روس اپنی گیس کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، خاص طور پر یوکرین اور مشرقی یورپ کے معاملات میں۔ قطر سے سستی گیس کی فراہمی روس کے لیے نہ صرف اقتصادی نقصان کا باعث بنتی بلکہ اس کے سیاسی اثر و رسوخ کو بھی کم کر دیتی، اس لیے روس نے اس گیس پائپ لائن کی مخالفت کی۔
منصوبے پر ہونے والی پیش رفت
2009 میں اس منصوبے کی ابتدائی تجاویز سامنے آئیں، لیکن شام کی مخالفت کے بعد یہ تعطل کا شکار ہو گیا۔ شام نے اس کے برعکس ایک متبادل منصوبے کی حمایت کی، جس میں ایران کی گیس کو عراق اور شام کے ذریعے یورپ پہنچانے کی بات کی گئی تھی۔
قطر-ترکیہ گیس پائپ لائن منصوبہ کبھی باضابطہ طور پر شروع نہیں ہوا، لیکن یہ شام کی خانہ جنگی کے پس منظر میں ایک اہم عنصر رہا۔ قطر اور ترکیہ کی جانب سے شامی باغیوں کی حمایت کا مقصد بشار الاسد کو ہٹانا اور اس منصوبے کی راہ ہموار کرنا بھی تھا۔
یہ منصوبہ جغرافیائی اور سیاسی رکاوٹوں کی وجہ سے کبھی حقیقت نہیں بن سکا، لیکن اس کی اہمیت آج بھی باقی ہے۔ قطر کی گیس یورپ کے لیے توانائی کا ایک ممکنہ متبادل فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے سیاسی استحکام اور علاقائی تعاون ضروری ہیں۔
روس کے لیے، یہ منصوبہ ہمیشہ ایک چیلنج رہے گا، کیونکہ یہ اس کی توانائی کی منڈی پر گرفت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی توانائی کی سیاست کس قدر پیچیدہ اور عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ سے جڑی ہوئی ہے۔ بشار حکومت کے خاتمے کے بعد ترک وزیر توانائی نے مجوزہ گیس پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قطر اور ترکیہ اس میگا اقتصادی پروجیکٹ پر مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن شام میں سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگی کے خاتمے کے بغیر اس پروجیکٹ پر عمل درآمد ممکن نہ ہو گا۔
نوٹ: جی ٹی وی نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












