ٹرمپ کے ٹیرف پر ٹروڈو سے اختلافات، کینیڈین وزیر خزانہ مستعفی

ٹرمپ کے ٹیرف پر جسٹس ٹروڈو سے اختلافات، کینیڈین وزیر خزانہ مستعفی
کینیڈین وزیر خزانہ کرسٹیا فری لینڈ نے ٹرمپ کے ٹیرف پر وزیراعظم جسٹس ٹروڈو سے شدید اختلاف کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
کرسٹیا فری لینڈ نے ٹروڈو کے ساتھ اختلافات اور امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ کے امکانات کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کے روز غیر متوقع طور پر استعفیٰ دیا۔
ٹرمپ نے کینیڈا کی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرنے کا وعدہ کیا ہے، انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ فری لینڈ کا رویہ مکمل طور پر زہریلا اور معاہدے کرنے کے لئے سازگار نہیں۔
اپنی ٹویٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کی عظیم ریاست اس وقت حیران رہ گئی جب وزیر خزانہ نے استعفیٰ دیا یا گورنر جسٹن ٹروڈو نے انہیں برطرف کیا کیونکہ ان کا رویہ بہت زہریلا تھا، لہٰذا انہیں یاد نہیں رکھا جائے گا۔
ٹرمپ ٹروڈو کو ‘گورنر’ کہہ کر پریشان کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے حال ہی میں ایک ملاقات کے دوران کہا تھا کہ اگر کینیڈا جارحانہ امریکی محصولات سے نہیں نمٹ سکتا تو کینیڈا کو امریکا کی 51 ویں ریاست بننا چاہیے۔
ٹرمپ نے یہ پیشکش گزشتہ ماہ ٹروڈو کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کی تھی۔
نو منتخب امریکی صدر اور جسٹس ٹروڈو کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ نے کینیڈا، میکسیکو اور چین کی محصولات پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دریں اثنا کرسٹیا فری لینڈ کے استعفے کے بعد کینیڈا کے رہنماؤں کی جانب سے ٹروڈو سے مستعفی ہونے کے مطالبے کا ایک اور سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
پانچ موجودہ لبرل ارکان پارلیمنٹ نے عوامی طور پر ٹروڈو سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے، جو ہاؤسنگ بحران اور افراط زر کی وجہ سے گرتی ہوئی مقبولیت کا سامنا کر رہے ہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












