اسرائیل کے دو انتہا پسند وزراء آپس میں لڑ پڑے

اسرائیل کے دو انتہا پسند وزراء آپس میں لڑ پڑے (فوٹو: فائل)
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی کابینہ کے دو شدت پسند وزراء آپس ہی میں لڑ پڑے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ نے اتما بن گویر پر غیر ذمہ داری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب ہم جنگ کررہے ہیں تو اس درمیان گویر نے اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
اسرائیلی کے وزیر خزانہ نے وزیر داخلہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بن گویر اور ان کے ساتھی مکمل طور پر راستہ بھٹک چکے ہیں، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بن گویر اور اس کے ساتھیوں کے بغیر بھی بجٹ کی منظوری کا سلسلہ جاری رکھیں۔
مزید پڑھیں: شام پر قبضہ؛ گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل ہے؟
بیزلیل اسموتریچ نے کہا کہ کچھ لوگ معمولی اور غیر اہم مسائل کی بنیاد پر اسرائیل کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر داخلہ بن گویر نے اسموتریچ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا تمہارے خیال میں کابینہ کے قانونی مشیر کو برطرف کرنا معمولی مسئلہ ہے؟۔
مزید پڑھیں: "بےروزگار یہودیوں کو فوج میں بھرتی نہ ہوں”
انہوں نے مزید کہا کہ اسموتریچ جو کھیل کھیل رہے ہیں، وہ آج رات سب پر واضح ہوجائے گا، وہ شخص جو دائیں بازو کی جماعتوں کے موقف کی ترجمانی کا دعویٰ کرتا ہے درحقیقت کابینہ کے قانونی مشیر کو برطرف کرنے اور عدالتی اصلاحات کو روکنے کی کوشش کررہا ہے۔
بن گویر نے کہا کہ کابینہ کے قانونی مشیر کو برطرف کیے بغیر بجٹ کی منظوری کا کوئی فائدہ نہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












