منگل، 24-مارچ،2026
منگل 1447/10/05هـ (24-03-2026م)

طالب علموں نے پروپیگنڈا پھیلانے پر ٹی وی اسٹیشن پر دھاوا بول دیا

25 دسمبر, 2024 12:17

بنگلہ دیش میں طالب علموں نے ایک ٹیلی ویژن اسٹیشن پر ‘پروپیگنڈا’ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس کے سرمایہ کار کے دفتر میں دھاوا بول دیا جس کے بعد 5 صحافی برطرف کردیے گئے۔

طلباء نے اگست کے انقلاب میں حصہ لیکر وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، ان کے دور کو میڈیا کی آزادی کے لئے بدترین ادوار میں سے ایک کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔

امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ تحریک کے کنوینر حسنات عبداللہ نے 17 دسمبر کو تقریبا 15 سے 20 طالب علموں کی قیادت کرتے ہوئے سٹی گروپ کے دفاتر کا دورہ کیا، جو سوموئے ٹیلی ویژن میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

حسنات نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سوموئے ٹیلی ویژن پروپیگنڈا کرکے میرے تبصروں کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا تھا اور ایک گرتی ہوئی سیاسی جماعت کے خیالات کو جگہ دے رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پریس کی آزادی کے کٹر حامی ہیں، لیکن پریس کو غیر جانبدار رہنا چاہیے، انہیں مطالبات کرنے میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔

ٹیلی ویژن اسٹیشن کی فنڈنگ کرنے والے کاروباری گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے تبصرہ کے لئے بار بار درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

اس واقعے نے انقلاب کے تناظر میں صحافیوں میں خوف و ہراس بڑھا دیا ہے۔

ایک صحافی عمر فاروق، جو ٹیلی ویژن اسٹیشن کے سینئر ایڈیٹر رہ چکے ہیں، نے کہا کہ وہ ان پانچ افراد میں شامل ہیں جنہیں بغیر کسی وجہ کے برطرفی کا خط ملا۔

فاروق نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹیلی ویژن حکام نے ہم میں سے چند افراد سے درخواست کی ہے کہ وہ اسٹیشن کی بہتری کے لیے استعفیٰ دے دیں۔

عبوری رہنما محمد یونس نے بارہا اصرار کیا ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی چاہتے ہیں۔

یونس کے پریس سکریٹری شفیق العالم نے حکومت سے دوری اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

 

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔